امریکا نے طیارہ بردار بحری جہاز سمیت مزید 9 ہزار فوجی مشرقِ وسطی بھیج دیے

امریکا نے طیارہ بردار بحری جہاز سمیت مزید 9 ہزار فوجی مشرقِ وسطی بھیج دیے

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
امریکا نے طیارہ بردار بحری جہاز سمیت مزید 9 ہزار فوجی مشرقِ وسطی بھیج دیے

Webdesk

|

2 Oct 2026

نیویارک: امریکا نے مشرقِ وسطی میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے تقریبا 9 ہزار مزید فوجی خطے کی جانب روانہ کر دیے ہیں، جبکہ ایک تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی اس بحری بیڑے میں شامل ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطی کی طرف جانے والے بحری بیڑے میں 7 ہزار سے زائد امریکی ملاح اور تقریبا 2 ہزار میرینز شامل ہیں۔ اس میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ طیارہ بردار بحری جہاز کا اسٹرائیک گروپ اور یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ شامل ہے۔

میکِن آئی لینڈ گروپ میں یو ایس ایس جان پی مرٹھا اور یو ایس ایس اینکوریج جیسے بحری جہاز بھی شامل ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اگر یہ بحری بیڑے خطے میں پہنچ جاتے ہیں تو اکتوبر کے آخر تک مشرقِ وسطی میں امریکا کے تین طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہو سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق خطے میں پہلے سے موجود امریکی فوجیوں کو شامل کیا جائے تو مشرقِ وسطی میں امریکی بحری افواج کی تعداد 20 ہزار سے زائد ملاحوں اور میرینز تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ سیکڑوں طیارے بھی خطے میں موجود ہوں گے۔

اس وقت یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس جارج واشنگٹن طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں موجود ہیں، جبکہ یو ایس ایس باکسر ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی وہاں تعینات ہے۔امریکی فوج کی یہ اضافی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف آئندہ کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

 ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ چند ہفتوں تک محدود رہ سکتی ہے. تاہم اب انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی کارروائی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق خطے میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی غیر معمولی ہے۔ اپریل میں بھی مشرقِ وسطی میں پہلی مرتبہ 2003 کے بعد تین امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے اسٹرائیک گروپس موجود تھے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!