یورپ جانیوالے خبردار! نئے سخت قوانین کی منظوری

یورپ جانیوالے خبردار! نئے سخت قوانین کی منظوری

نئے قواعد کا اطلاق صرف پناہ گزینوں تک محدود نہیں ہوگا
یورپ جانیوالے خبردار! نئے سخت قوانین کی منظوری

Webdesk

|

20 Sep 2026

نیویارک: یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف نئے سخت قوانین و قواعد منظور کیے ہیں، جس کے تحت ویزا ختم ہونے کے بعد مزید قیام کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

 یورپی یونین نے ایسے غیر یورپی شہریوں کی واپسی سے متعلق قواعد مزید سخت کرنے کی منظوری دی ہے جو یورپی یونین کے رکن ممالک میں قانونی طور پر قیام کا حق نہیں رکھتے۔ یورپی پارلیمنٹ نے 17 جون 2026 کو واپسی کے نئے ضوابط کی منظوری دی، جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو زیادہ مثر بنانا ہے۔

نئے قواعد کا اطلاق صرف پناہ گزینوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان افراد پر بھی ہوگا جن کے پاس یورپی یونین میں قیام کا قانونی حق موجود نہ ہو اور جن کیخلاف متعلقہ قومی حکام واپسی کا فیصلہ جاری کرچکے ہوں۔

 ان میں مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزار، ویزا یا رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کرنے والے افراد اور دیگر غیر قانونی طور پر مقیم غیر یورپی شہری شامل ہوسکتے ہیں۔

نئے نظام کے تحت کسی شخص کو واپسی کا فیصلہ موصول ہونے کے بعد فوری طور پر یا مقررہ مدت کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔ متعلقہ شخص پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی شناخت، پاسپورٹ، سفری دستاویزات اور دیگر ضروری معلومات فراہم کرکے حکام کے ساتھ تعاون کرے۔

بیورو کے مطابق متعلقہ حکام سے تعاون نہ کرنے، شناخت چھپانے، مقررہ وقت پر رپورٹ نہ کرنے یا واپسی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں بعض سہولتیں محدود کی جاسکتی ہیں جبکہ جبری واپسی کی کارروائی بھی شروع ہوسکتی ہے۔

نئے قواعد کے تحت ہر معاملے کا انفرادی جائزہ لینے کے بعد ایسے شخص کو حراست میں لیا جاسکتا ہے جو حکام سے تعاون نہ کرے، فرار ہونے کا خطرہ رکھتا ہو یا سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے۔

 مخصوص حالات میں حراست کی مدت 24 ماہ تک ہوسکتی ہے جبکہ بعض صورتوں میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد پر طویل مدتی داخلے کی پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے، جو بعض حالات میں 10 سال سے زیادہ یا غیر معینہ مدت تک ہوسکتی ہے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!