پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف معاہدوں کا نہیں، دلوں کا رشتہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف معاہدوں کا نہیں، دلوں کا رشتہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان حرمین شریفین اور مملکت کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، ترجمان پاک فوج
پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف معاہدوں کا نہیں، دلوں کا رشتہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ویب ڈیسک

|

19 Sep 2026

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا ہے اور حرمین شریفین سمیت سعودی عرب کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان عملی طور پر بھی سعودی عرب کی مدد کے لیے موجود ہے اور سفارتی سطح پر بھی سعودی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی ضرورت کے مطابق پاکستان حرمین شریفین اور مملکت کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے۔ یہ تعلق صرف ریاستی معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان جذباتی، تاریخی اور اٹوٹ رشتے سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان تیار ہے اور مشترکہ دفاعی و اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدوں کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سعودی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت بھی پاکستان کی مسلسل اور مخلصانہ سفارت کاری کے نتیجے میں طے پائی۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے واضح مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی کو روکا جائے۔ ان کے مطابق اگر دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

بلوچستان کی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور وہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردی کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر مہم بھی بیرون ملک سے چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی پالیسی دہشتگردوں کے حوالے سے بالکل واضح ہے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!