6 hours ago
سابق امریکی فوجی ندال ملک حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کا اعلان
Webdesk
|
9 Oct 2026
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں فائرنگ کے واقعے کے مجرم سابق فوجی افسر ندال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو بتایا کہ ندال ملک حسن کی سزائے موت 3 دسمبر کو دوپہر ایک بجے فورٹ ہڈ میں دی جائے گی۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ فائرنگ اسکواڈ کارروائی لائیو اسٹریم کی جائے گی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اسے کس پلیٹ فارم پر نشر کیا جائے گا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے قدامت پسند امریکی میڈیا ادارے ریئل امریکا وائس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ندال ملک حسن کو فوجیوں پر مشتمل فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ لوگ یہ کارروائی دیکھ سکیں۔
امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ اس نوعیت کے جرائم کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ انہوں نے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کے فیصلے کو بھی درست قرار دیا۔
ندال ملک حسن امریکی فوج میں میجر اور ماہرِ نفسیات تھے۔ انہوں نے 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا تھا جب حسن کو چند ہفتوں بعد افغانستان میں تعینات کیا جانا تھا۔
گرفتاری کے دوران پولیس کی فائرنگ سے وہ جزوی طور پر مفلوج ہوگئے تھے اور بعد میں وہیل چیئر تک محدود ہوگئے۔واقعے کے بعد ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔
فوجی عدالت نے اگست 2013 میں حسن کو قتل اور اقدامِ قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے قتل کے 13 اور اقدامِ قتل کے 32 الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔
امریکی فوج میں آخری بار 1961 میں ایک فوجی کو پھانسی دی گئی تھی۔ آرمی پرائیویٹ جان بینیٹ کو آسٹریا میں ایک 11 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور اسے قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی دی گئی تھی۔تاہم اب 65 سالوں میں پہلی بار مجرم ندال ملک حسن کو امریکی فوج فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی کارروائی پر عمل درآمد کرے گی۔
Comments
0 comment