6 hours ago
روسی صدر پیوٹن کا اہم پیغام سامنے آگیا
Webdesk
|
28 Oct 2026
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے قدرتی گیس برآمد کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں۔
شِنہوا نیوز کے مطابق ماسکو کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (جی ای سی ایف) کے آٹھویں سربراہی اجلاس کے دوران سربراہانِ مملکت و حکومت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ قدرتی گیس عالمی توانائی کی کھپت کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ ہے، جب کہ رواں صدی کے وسط تک دنیا بھر میں اس کی سالانہ طلب 5.5 ٹریلین مکعب میٹر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
پیوٹن نے خبردار کیا کہ روس کو عالمی گیس منڈی سے باہر رکھنے یا اس کی گیس کی صنعت کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور دوسرے ممالک میں گیس استعمال کرنے والوں کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ مشرقِ وسطی میں کشیدگی میں اضافے، گیس کی ترسیل کے راستوں میں تعطل اور بعض ممالک کی جانب سے گیس کے آلات اور ٹیکنالوجی کی خریداری پر عائد پابندیوں نے عالمی گیس منڈی میں طویل عرصے تک عدم توازن برقرار رہنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
پیوٹن کے مطابق جی ای سی ایف کے رکن ممالک کے پاس مجموعی طور پر دنیا کے قدرتی گیس کے تقریبا 70 فی صد ذخائر ہیں، جب کہ عالمی گیس برآمدات میں ان کا حصہ تقریبا 40 فی صد ہے۔
انھوں نے کہا کہ عالمی گیس کی صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے برآمد کنندگان کو باہمی تعاون مزید گہرا کرنا چاہیے اور باہمی فائدے اور ایک دوسرے کے مفادات کے احترام کی بنیاد پر کھلی اور اعتماد پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینا چاہیے۔
روسی صدر نے عالمی گیس منڈی میں روس کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر ہیں اور وہ پیداوار کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔
واضح رہے کہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کا فورم 2001 میں قائم کیا گیا تھا، جب کہ دسمبر 2008 میں اسے باضابطہ تنظیم کی حیثیت دی گئی۔ فورم کا مقصد قدرتی گیس پیدا اور برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون اور مکالمے کو مضبوط بنانا اور عالمی گیس منڈی میں استحکام اور توانائی کے تحفظ کو فروغ دینا ہے۔
Comments
0 comment