عالمی منڈی میں حوثی حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

عالمی منڈی میں حوثی حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

امریکی خام تیل اور برینٹ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم مربان خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔
عالمی منڈی میں حوثی حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

Webdesk

|

28 Oct 2026

کراچی: سعودی آئل ریفائنری پر حوثی حملے کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئیں۔ایران میں چار ممالک کی بیٹھک کے بعد عالمی منڈی میں گزشتہ دو روز کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

 تاہم گزشتہ روز سعودی آئل ریفائنری پر حوثی حملوں کے دعووں کے بعد خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں۔ امریکی خام تیل اور برینٹ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم مربان خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں 1.34 ڈالر فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا .جس کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 101.20 ڈالر پر پہنچ گئی۔برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 1.62 ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد 115.70 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امن مذاکرات کی امیدوں کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریبا 2 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم سعودی عرب پر دوبارہ حوثی حملے شروع ہونے سے عالمی توانائی کی رسد کے حوالے سے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطی میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔ جبکہ خطے میں عدم استحکام برقرار رہنے کی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھا کا امکان ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں درآمدی بل پر دبا بڑھتا ہے، جبکہ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا انحصار عالمی نرخوں کے علاوہ شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور حکومتی فیصلوں پر بھی ہوتا ہے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!