2 hours ago
دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد 6 دن میں خالی کرنے کا نوٹس جاری
Webdesk
|
21 Oct 2026
دہلی: بھارت میں مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں. جہاں نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو مبینہ طور پر چھ دن میں خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق مسجد کے امام، جمعیت علمائے ہند اور دیگر حلقوں نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور اسلامی تاریخی ورثے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
مسجد کے امام کے مطابق 2021 کے سرکاری سروے میں مسجد کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا تھا، اس لیے تجاوزات سے متعلق حکومتی دعوے قابلِ اعتراض ہیں۔
امام نے الزام لگایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران مسجد کے تحفظ کے لیے دہلی وقف بورڈ سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، تاہم کوئی مثر اقدام نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق 7 اکتوبر 2026 کو مسجد کے بجلی اور پانی کے کنکشن بھی منقطع کردیے گئے، جس سے وہاں عبادت اور روزمرہ امور مزید متاثر ہوئے۔
جمعیت علمائے ہند نے دعوی کیا ہے کہ ریس کورس مسجد قانونی طور پر محفوظ تاریخی ورثہ ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اس پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
تنظیم نے ریاستی کارروائی کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد خالی کرنے کا نوٹس فوری طور پر معطل کیا جائے، عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور بجلی و پانی کی سہولیات بحال کی جائیں۔
مسجد کے تحفظ کے معاملے پر میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی مسجد کے تحفظ کے لیے وقف حکام کی جانب سے مثر اقدامات نہ کرنا بھی باعثِ تشویش ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ یہی رویہ معمول بنتا جارہا ہے؟ ان کے مطابق اگر قانونی طور پر تسلیم شدہ مسجد بھی محفوظ نہیں تو دیگر مسلم عبادت گاہوں کے تحفظ کی کیا ضمانت رہ جاتی ہے؟
سیاسی ماہرین نے اس معاملے کو بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی اور تاریخی ورثے سے متعلق وسیع تر تنازعے کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ان کے مطابق متنازعہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 نے مسلم مذہبی املاک کے تحفظ اور انتظامی خودمختاری کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔
ماہرین کا دعوی ہے کہ اس قانون کے تحت مساجد کی رجسٹریشن سے متعلق اختیارات ضلعی بیوروکریسی کو منتقل ہونے سے اوقاف کے ادارہ جاتی اختیار میں کمی آئی ہے۔
Comments
0 comment