5 hours ago
ملتان میں یتیم بچے کو کچلنے والا ملزم مبینہ مقابلے میں ہلاک
ویب ڈیسک
|
21 Oct 2026
ملتان میں یتیم بچے کو گاڑی تلے کچلے والا ملزم سی سی ڈی کے مبینہ مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا۔
سی سی ڈی کے ضلعی افیسر عرفان اکبر نے بتایا کہ عدالت نے ملزم کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جہاں سے وہ فرار ہو گیا تھا۔
ان کے مطابق ملزم کے فرار ہونے کے بعد اس کی تلاش شروع کی گئی اور نادرن بائی پاس بہاولپور کے قریب جب دو مشکوک موٹر سائیکلوں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تو ملزمان نے فائرنگ کی۔
سی سی ڈی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم توقیر اپنے ساتھی کی گولیاں لگنے سے موقع پر ہلاک جبکہ اس کا ساتھی فرار ہو گیا۔ ملزم کی لاش کو تحویل میں لینے کے بعد ضابطے کی کاروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز 15 سالہ لڑکے وسیم عباس کے پیچھے ملزم نے گاڑی تیزی سے دوڑائی اور پھر ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں یتیم لڑکا موقع پر جانبحق ہو گیا تھا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق وسیم کے سر گردن کمر میں شدید چھوٹے ائی ہے جبکہ اس کی ہڈیوں میں بھی فریکچر پایا گیا تھا اس کے علاوہ جسم پر رگڑ کے شدید نشانات اور زخم بھی موجود تھے۔
15 سالہ وسیم اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ملتان کے ایک دارالامان میں مقیم تھا اس سے قبل اس کے والد کے انتقال کے بعد والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی۔ متوفی وسیم کی بہن اپنی والدہ کے ساتھ جب کہ چھوٹا بھائی متوفی کے ساتھ دارالامان میں رہائش پذیر تھا۔
دارالامان کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے ماضی کے دیگر بچوں کی طرح وسیم کو بھی الیکٹرک کا کام سکھانے کے لیے توقیر کے پاس رکھوایا تھا۔
توقیر نے پولیس کو دیے گئے بیان نے یہ بتایا کہ وسیم کام سے بھاگ رہا تھا جبکہ اس کا تعاقب کیا تو گاڑی کنٹرول سے باہر ہونے کے بعد پہلے متوفی اور پھر دیوار سے ٹکرائی۔
وسیم نے آخری بار بھاگتے ہوئے ایک دکاندار کو بتایا تھا کہ وہ مبینہ طور پر ملزم اور اس کے ساتھی کے تشدد کے خوف کی وجہ سے فرار ہوا ہے اور اس نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وہ لوگ مجھے مار دیں گے۔
اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جب سامنے آئی تو شہریوں میں ایک شدید تشویش پائی گئی جبکہ انہوں نے فوری طور پر متوفی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر متاثرہ بچے کی جانب سے رضاکارانہ طور پر پیش ہونے والے وکیل کا جب ملزم سے آمنا سامنا ہوا تو اس نے سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا نظام ایسا نہیں ورنہ تم جیسے سفاک شخص کو کچہری چوک پر لٹکانا چاہیے۔ وکیل نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر عدالتوں سے تم چھوٹ جاتے ہو تو ہم وکلا تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔
Comments
0 comment