سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائیاں، 10 دہشتگرد ہلاک، 2 خودکش بمبار خواتین گرفتار
Webdesk
|
22 Jul 2026
کوئٹہ: بلوچستان میں فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد گٹھ جوڑ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،10دہشتگرد ہلاک جبکہ 2 خودکش بمبار خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان میں فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد گٹھ جوڑ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے صوبے کے مختلف علاقوں میں جامع مشترکہ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ضلع سوراب اور مستونگ میں متعدد انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
بیان کے مطابق ضلع سوراب میں کارروائی کے دوران 7 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ضلع مستونگ میں آپریشن کے دوران مزید 3 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مستونگ آپریشن میں فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والی 2 خودکش بمبار خواتین اور ایک سہولت کار کو گرفتار کیا گیا، کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی اور معاونت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مثر کارروائیاں قومی امن کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ جبکہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بلوچستان میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور دہشتگردی کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں ںے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے دشمن ہیں اور مجھ سمیت قوم افواج پاکستان کے غیر متزلزل عزم میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
Comments
0 comment