سہیل آفریدی نے لانگ مارچ منسوخ کرنے کیلئے شرائط پیش کردیں

سہیل آفریدی نے لانگ مارچ منسوخ کرنے کیلئے شرائط پیش کردیں

ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے
سہیل آفریدی نے لانگ مارچ منسوخ کرنے کیلئے شرائط پیش کردیں

Webdesk

|

4 Oct 2026

پشاور: وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ منسوخ کرنے کیلئے 6 شرائط پیش کردیں۔وفاقی حکومت اوراپوزیشن کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے آج لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کررکھا ہے ۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی شرائط سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے لکھا کہ مذاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہاہے۔

ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے۔

سہیل آفریدی نے اپنے پہلے مطالبے میں لکھا کہ  وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے. جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادل خیال کیا جائے۔

فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔دوسرا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں.یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔

 جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔

تیسری ڈیمانڈ میں انہوں نے جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانونا قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،سہیل آفریدی نے چوتھا مطالبہ جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشری بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلا اورمجاز یا نامزد رفقا سے ملاقات کا حق فراہم کرنے کا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانونا ممنوع ہوں۔

انہوں نے پانچواں مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان، بشری بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع یا مکمل کیا جائے، جہاں قانونا ایسا ممکن ہو۔تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریق کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔

خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے ان کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔

مذاکراتی کمیٹی کے سامنے رکھے گئے چھٹے مطالبے میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے،اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اوراقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!