ایل پی جی مافیا بے لگام، ملک بھر میں سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی ناممکن
Webdesk
|
2 Nov 2026
لاہور: ملک بھر میں ایل پی جی سرکاری نرخوں پر دستیاب نہ ہو سکی، دکانداروں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ آسکی، جبکہ ایل پی جی پمپس ضبط کیے جانے کے اخراجات بھی صارفین سے وصول کیے جانے لگے۔
دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے آئندہ ماہ سے سرکاری قیمت پر فروخت کی امید ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ قیمتوں کے تعین کا فارمولا طے پاگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق موسم کی تبدیلی اور توانائی بحران کے باعث ایل پی جی کی کھپت میں اضافہ ہورہا ہے.جس کے ساتھ ہی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔
دکانداروں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود صارفین کو سرکاری قیمت پر گیس کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکی۔اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایل پی جی کی 411 کمپنیوں میں سے صرف 45 کمپنیوں کے پاس مقامی پیداوار کا کوٹہ ہے، جبکہ 300 سے زائد کمپنیاں انہی کمپنیوں سے ایل پی جی خرید کر آگے فروخت کرتی ہیں۔
اس صورتحال کے باعث اوگرا کوٹہ سسٹم ختم کرکے بولی کا نظام متعارف کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما رانا عبدالجبار نے نجی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایل پی جی مہنگی فروخت کرنے کے ذمہ دار ڈسٹری بیوٹرز نہیں بلکہ پلانٹس ہیں۔
Comments
0 comment