پیٹرولیم ڈیلرز سے حکومت کے مذاکرات ناکام ہوگئے
Webdesk
|
13 Aug 2026
اسلام آباد: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں. جس کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے ہفتے کی صبح سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے اہم مطالبات میں کاروباری اخراجات، بجلی کے بھاری بلوں اور فرینچائز فیسوں کے پیشِ نظر پیٹرول پر ڈیلر مارجن بڑھا کر 8 فیصد کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ ڈیلرز روزانہ یا 24 گھنٹے کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی کے حکومتی نظام (ڈیلی پرائسنگ میکانزم) کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
مذاکرات کے دوران حکومت نے ڈیلر مارجن میں ایک روپے 34 پیسے اضافے کی یقین دہانی کرائی تھی، جسے ڈیلرز نے کاروباری اخراجات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا۔
پیٹرولیم ڈیلرز نے بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی تبدیلی کے خلاف حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دے رکھا تھا۔
اس ڈیڈ لاک کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے کراچی میں اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ ہڑتال کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بدلنے سے کاروباری نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے قیمتوں کے تعین کا پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے۔
Comments
0 comment