4 hours ago
2027 میں کیا ہونے والا ہے؟ خطرناک پیشگوئی سامنے آ گئی
Webdesk
|
22 Sep 2026
انقرہ: آنے والا برس 2027 کیسا ہوگا اور اس میں کیا کچھ خطرناک ہو سکتا ہے اس حوالے سے تشویشناک پیشگوئی سامنے آ گئی ہے۔
اس وقت پوری دنیا گلوبل ولیج سے شدید متاثر ہو چکی ہے۔ بے موسم اور غیر متوقع برساتیں، شدید طوفان، سیلاب، زلزلوں نے دنیا کا نظام تہہ وبالا کر کے رکھ دیا ہے اور کوئی ملک ترقی یافتہ یا ترقی پذیر اس کی دست برد سے نہیں بچ پا رہا ہے۔
ایسے میں اگلے برس 2027 کے حوالے سے ایک خطرناک پیشگوئی سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بحر الکاہل میں طاقتور شکل اختیار کرنے والا موسمیاتی نظام ایل نینو اب ایک سپر ایل نینو میں تبدیل ہو رہا ہے اور پوری دنیا کے موسم کو تبدیل کر رہا ہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ہر 2 سے 7 سال کے دوران بننے والا موسمیاتی نظام ایل نینو وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندروں کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اس سال کا ایل نینو پانی کی سطح کے درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافے کے باعث جون میں بننا شروع ہوا تھا، اس موسمیاتی نظام کی اوسطا عمر ڈیڑھ سال یا 18 مہینے کی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ یہ موسمیاتی نظام اب ایک طاقتور شکل اختیار کر کے سپر ایل نینو میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اگلے سال 2027 کے شروع میں سپر ایل نینو اپنی طاقت کے عروج پر ہونے کا اندیشہ ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ یہ اب تک کے سب سے طاقتور سپر ایل نینو میں سے ایک ہوگا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ سپر ایل نینو کے تحت ایک طرف مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا میں انتہائی شدید بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ دوسری طرف اسی موسمیاتی سسٹم کی وجہ سے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں شدید خشک سالی کا بھی خطرہ ہے۔
اسی ایل نینو کا شکار رواں برس بھارت اور پاکستان رہے، جہاں مون سون کی بارشیں توقع سے کم رہی ہیں۔
بھارتی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یکم جون سے 9 ستمبر کے دوران ہونے والی بارشیں بھارت کی اوسط بارشوں سے 15 فیصد کم رہی ہے، ایل نینو سے کہیں زیادہ بارشیں، کہیں سیلاب اور کہیں خشک سالی ہوتی ہے، اس کے ضمنی اثرات فصلوں کا متاثر ہونا ہوتا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کی ہے کہ ایل نینو 2027 اپنے ختم ہوتے ہوتے کم از کم 49 ملین مزید افراد کو بھوک کی طرف دھکیل سکتا ہے، یعنی 45 ملکوں میں بھوک سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد 225 ملین سے بڑھ کر 274 ملین ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق مکئی، چاول اور بارش پر منحصر دیگر فصلوں کو سب سے زیادہ خطرات ایل نینو سے لاحق ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم نے پیشگوئی کی ہے کہ ستمبر سے نومبر کے دوران دنیا میں تقریبا ہر جگہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا، 86 فیصد امکان ہے کہ اب سے لے کر 2030 کے درمیان کوئی ایک سال ریکارڈ پر گرم ترین سال کے طور پر 2024 کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ماہرین موسمیات کے اندازے ہیں کہ اگلا سال یعنی 2027 ریکارڈ توڑ گرم سال ثابت ہوسکتا ہے۔
Comments
0 comment