اینکر ریحان طارق کی ضمانت منظور
ویب ڈیسک
|
21 Jul 2026
لاہور: سیشن کورٹ نے صحافی اور اینکرپرسن ریحان طارق کی ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نےریحان طارق کی ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔
ریحان طارق کی طرف سے دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مئوقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کے متن سے کوئی وقوعہ ہونا ثابت نہیں ہوا، پاکستان کے کسی قانون کی کتاب میں کسی شخص کی طرف سے تاریخی مذہبی سوالات پر مبنی انٹرویو کرنا قابل دست اندازی جرم نہیں ہے اور اس مقدمہ میں صحافی کی کوئی الیکٹرانک ڈیوائس استعمال نہیں ہوئی۔
ملزم صحافی کیخلاف زیر تنازع ویڈیو یا انٹرویو اپ لوڈ کرنے کا ایک بھی ثبوت نہیں ملا، ایف آئی آر کے اندر جتنی بھی دفعات عائد کی گئی ہیں، وہ تمام ضابطہ فوجداری کی غیرممنوعہ دفعات ہیں جس میں ملزم کو ضمانت بطور آئینی حق دی جاتی ہے۔میاں داود ایڈووکیٹ نے مزید موقف اختیار کیا کہ پاکستانی تاریخ کا یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں ملزم کو گنہگار قرار دینے کیلئے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے جعلی ثبوتوں کا سہارا لیا۔
ریحان طارق کے اصل فیس بک اکائونٹ سے اصل تفصیلات بشمول موبائل نمبر اٹھا کر جعلی فیس بک اکائونٹ ریحان طارق آفیشل سے منسوب کر کے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے جعلسازی کی۔
ریحان طارق آفیشل نام کا فیس بک پیج وجود ہی نہیں رکھتا لیکن اس پیج کو صحافی سے منسوب کر کے مقدمہ بنایا گیا۔
سرکاری اداروں کا کام اصل ثبوت اکٹھے کرنا ہوتا ہے لیکن افسوسناک طور پر اب این سی سی آئی جیسے ادارے مقدمات درج کرنے کیلئے جعلسازی میں ملوث ہو رہے ہیں۔ این سی سی آئی کی بدنیتی واضح ہے جس مذہبی سکالر جواد نقوی کے ساتھ انٹرویو کیا گیا، اسے آج تک ملزم نامزد نہیں کیا گیا حالانکہ زیر تنازع انٹرویو آج بھی جواد نقوی کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
میاں داود ایڈووکیٹ نےسپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے 17عدالتی فیصلے پیش کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ آج تک اعلی عدلیہ نے مذہبی تنازعات کے تمام مقدمات میں علما کرام کی رائے کو مقدم مان کر ضمانت دی ہے، اس لئے ریحان طارق کو بھی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے ۔
یہ طے شدہ قانونی اصول ہے کہ جرم کے تعین کا فیصلہ ٹرائل کورٹ تک جاتا ہو تو ملزم کو ضمانت بطور حق دی جاتی ہے، ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ صحافی اور مہمان کی گفتگو کسی بے ادبی یا توہین کے ذمرے میں آتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجداری کی دفعہ 196کے تحت حکومتی منظوری دستیاب نہ ہو تومذہبی تنازعات کے مقدمات میں ضمانت پر ملزم رہا کیا جاتا ہے ۔
این سی سی آئی کے ایس ایچ او نجم باجوہ نے درخواست ضمانت کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ انہوں نے جواد نقوی کو ملزم نہیں رکھا تاہم ملزم ریحان طارق کے تمام سوالات دانستہ طور پر متنازع تھے اور سوالات کرنے کا انداز بھی متنازع تھا جس سے امکان پیدا ہوتا تھا کہ مذہبی اور مسلکی فساد کا خدشہ ہے لہذا ملزم کی ضمانت خارج کی جائے۔
عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ملزم ریحان طارق کی ایک لاکھ کے مچلکوں کی عوض ضمانت منظور کر لی۔
Comments
0 comment