11 hours ago
میر رضا کیس، جوڈیشل کمیشن نے بزنس پارٹنر کے بیانات میں تضاد پکڑ لیے
ویب ڈیسک
|
4 Sep 2026
کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے مقتول کے کاروباری ساتھی محمد احمد کے بیان میں تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس پر سوالات اٹھا دیے۔
سماعت کے دوران میر رضا کے اہل خانہ، ان کے وکیل جبران ناصر سمیت 7 اہم گواہان کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کاروباری ساتھی محمد احمد، وینڈر عبداللہ، ایس ڈی پی او ارشد آفریدی اور آن لائن ٹیکسی ڈرائیور عزیز اللہ سمیت دیگر افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
محمد احمد نے اپنے بیان میں بتایا کہ میر رضا اپنے والد کے قرض اور مالی مشکلات کے باعث ذہنی دباؤ میں تھا۔ ان کے مطابق قرض کی رقم واپس لینے کے لیے بعض افراد میر رضا سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے اور گھر آنے کی دھمکیاں بھی دیتے تھے۔
محمد احمد نے یہ بھی بتایا کہ میر رضا کچھ عرصے سے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کر رہا تھا اور اس کے لاپتا ہونے کے بعد قرض خواہوں نے ان سے بھی رابطہ کیا۔
کمیشن نے محمد احمد سے میر رضا کے کمرے کی تلاشی، کاروباری معاہدے اور دیگر معاملات سے متعلق تفصیلی سوالات کیے۔ دورانِ سماعت کمیشن نے ان کے مختلف بیانات میں تضاد کی نشاندہی کی اور قرار دیا کہ ان کے بیان پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے محمد احمد کے بیان میں سامنے آنے والے تضادات کو میر رضا کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
Comments
0 comment