3 hours ago
سعودی عرب ریڈ لائن ہے، آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلنا چاہیے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب
ویب ڈیسک
|
26 Sep 2026
نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی، خطے کی صورتحال، پاک بھارت کشیدگی، مسئلہ کشمیر، فلسطین اور دہشت گردی سمیت اہم عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
حرمین شریفین کی سلامتی ریڈ لائن ہے
وزیراعظم نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ پیدا کیا۔ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، یہ پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں
شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے اور انہیں تنازع کے چوک پوائنٹ میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا دفاعی معاہدہ
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم ہے۔
جنوبی ایشیا میں جنگ کا خطرہ اور ٹرمپ کا کردار
وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچیں، کیونکہ دو ایٹمی طاقتیں کھلی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو دوبارہ ایسی صورتحال سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔
معرکہ حق اور بھارت کا مقابلہ
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے ایسا سبق سکھایا جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے
وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
سندھ طاس معاہدہ
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم کرنے کی کوئی حیثیت نہیں۔ پاکستان کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فلسطین اور غزہ کی صورتحال
وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام کئی نسلوں سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دنیا کے دیگر بچوں کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانیاں دیں اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان، بی ایل اے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ افغان حکام کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
Comments
0 comment