5 hours ago
ایلون مسک کی حیران کر دینے والی پیشگوئی
Webdesk
|
30 Oct 2026
دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا و اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک اکثر مستقبل کے بارے میں حیران کن پیشگوئیاں کرتے رہتے ہیں۔
اب ان کی ایک اور نئی پیشگوئی سامنے آئی ہے جو آپ کو دنگ کر دے گی۔ ایک ایکس پوسٹ پر ریپلائی کرتے ہوئے ایلون مسک نے پیشگوئی کی کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی اور روبوٹیکس کے شعبے میں پیشرفت کے باعث مستقبل میں پیسوں کی بچت کرنا بے مقصد ہوگا۔
انہوں نے پیشگوئی کی کہ مشینیں بتدریج اتنا زیادہ سامان اور سروسز فراہم کریں گی کہ لوگوں روزمرہ کی ضروریات کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
ان کے بقول اگر ایسا ہوا تو ملازمتوں، آمدنی اور بچت کے حوالے سے لوگوں کے نظریات ڈرامائی حد تک تبدیل ہو جائیں گے۔ اس ایکس پوسٹ میں صارفین اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ کیا لوگوں کو موجودہ عہد میں اپنے مالیاتی انتخاب پر فکرمند ہونا چاہیے یا نہیں۔
ایلون مسک نے اس حوالے سے کہا کہ مستقبل بعید میں پیسوں کی فکر بے مقصد ہو جائے گی۔ ان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایلون مسک کے خیال میں اے آئی ٹیکنالوجی بتدریج لوگوں کے لیے زندگی کے حوالے سے مالیاتی منصوبہ بندی کو بدل دے گی۔
اس سے قبل جولائی 2026 میں ایک انٹرویو کے دوران ایلون مسک نے کہا تھا کہ 2036 تک دولت لوگوں کے لیے بے معنی ہو جائے گی کیونکہ اے آئی اور روبوٹس پروڈکشن کا عمل بہت زیادہ بہتر بنا دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی پیشگوئی کی کہ آئندہ 5 برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی تمام انسانوں سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیشرفت کے نتیجے میں یہ نئی ٹیکنالوجی بہت جلد انسانی ذہنی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ ے گی۔
انہوں نے یہ بھی پیشگوئی کی کہ اے آئی ٹیکنالوجی انسانی تاریخ کو بدل دینے والی چند اہم ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔ ایلون مسک نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جدید ٹیکنالوجیز سے معاشرے کو بدلنے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی پر مبنی مشینوں سے تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا، اشیا کی تیاری آسان ہو جائے گی جبکہ خدمات سستی اور ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوں گی۔
ایلون مسک کے مطابق انسان نما روبوٹس اور ذہین مشینیں بہت جلد ایسے کام کرسکیں گے جو ابھی انسان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صنعتوں میں اے آئی پر انحصار بڑھ جائے گا، لاگت گھٹ جائے گی جبکہ افادیت بڑھ جائے گی۔
Comments
0 comment