مصنوعی ذہانت کا صرف 10 منٹ استعمال بھی ہمت کم کر سکتا ہے: تحقیق

مصنوعی ذہانت کا صرف 10 منٹ استعمال بھی ہمت کم کر سکتا ہے: تحقیق

فوری جوابات کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے سے آزادانہ سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مصنوعی ذہانت کا صرف 10 منٹ استعمال بھی ہمت کم کر سکتا ہے: تحقیق

Webdesk

|

29 Oct 2026

مصنوعی ذہانت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حوالے سے نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی کا صرف 10 منٹ استعمال بھی انسان کی مشکلات کا سامنا کرنے اور کام جاری رکھنے کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے، جبکہ اس پر زیادہ انحصار کرنے والے افراد مشکل کاموں میں جلد ہمت ہار سکتے ہیں۔

کارنیگی میلن یونیورسٹی، ایم آئی ٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی، یو سی ایل اے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق فوری جوابات کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے سے آزادانہ سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ تحقیق 2026 کی کانفرنس آن لینگویج ماڈلنگ میں پیش کی گئی ہے، اس میں 1 ہزار 222 افراد کو ریاضی کے مسائل حل کرنے اور عبارت پڑھ کر سوالات کے جواب دینے کے لیے کہا گیا۔

شرکا کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک کو مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کی اجازت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ نے تمام سوالات خود حل کیے۔

ابتدائی طور پر اے آئی استعمال کرنے والے افراد نے بہتر کارکردگی دکھائی اور دوسرے گروپ کے مقابلے میں کم سوالات چھوڑے، تاہم جب محققین نے چیٹ بوٹس تک ان کی رسائی ختم کر دی تو پہلے اے آئی استعمال کرنے والے افراد کو اسی نوعیت کے سوالات حل کرنے میں مشکلات پیش آئیں اور ان کے جلد ہمت ہارنے کے امکانات زیادہ پائے گئے۔

3 مختلف تجربات میں بھی یہی نتائج سامنے آئے، جن میں بالترتیب 354، 667 اور 201 افراد نے حصہ لیا۔

 محققین کے مطابق براہِ راست جواب حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے والے افراد میں کام جاری رکھنے کی صلاحیت میں زیادہ کمی دیکھی گئی، جبکہ اے آئی سے رہنمائی لینے والوں پر اس کے اثرات نسبتا کم تھے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!