2 hours ago
امریکا کو رعایت دینے سے تعلقات میں بہتری کی امید رکھنا بڑی غلط فہمی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای
Webdesk
|
4 Nov 2026
ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست سے ایران کی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی۔ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔
ڈیموکریٹس نے کئی ایسی ریاستوں میں بھی گورنر کے انتخابات جیت لیے ہیں جہاں پہلے ریپبلکنز کی حکومت تھی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مجتبی خامنہ ای نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے باوجود تہران کے حوالے سے واشنگٹن کی دشمنانہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو کوئی رعایت دینے سے بھی تعلقات میں بہتری کی امید رکھنا بڑی غلط فہمی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی قیادت متعدد مواقع پر واضح کرچکی ہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور عملی اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ جبکہ صرف بیانات اور سفارتی رابطوں سے اعتماد بحال نہیں ہوسکتا. بلکہ امریکا کو اپنی پالیسی میں عملی تبدیلی لانا ہوگی۔
مجتبی خامنہ ای نے خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ کسی جارحیت کی صورت میں ایران کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو گا۔ جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کرنا اور آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا امریکی بالادستی کے خلاف ایران کی مہم کا حصہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی عالمی بالادستی کے خاتمے کو ابھی دور سمجھتا ہے لیکن ایران اسے قریب دیکھ رہا ہے۔ جبکہ دفاعی صلاحیت اور طاقتور ایران ہی دشمن کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے اور ایران اس پیغام کی حمایت کرتا ہے۔ جبکہ ایرانی نائب اسپیکر علی نیک زاد نے خبردار کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی فوجی مہم جوئی سے گریز کرنا چاہیے، بصورت دیگر اسے سخت جواب ملے گا۔
رائٹرز کے مطابق غیر ملکی اشیا پر عائد محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ نے بہت سے امریکیوں کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ کیا۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے بہت زیادہ اخراجات برداشت کرنے کا دفاع کیا تاہم ان کی مقبولیت میں بھی کمی آتی رہی۔
گزشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو حکم دیا تھا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر جواب دیا جائے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ تہران کا جوہری پروگرام، امریکی اقتصادی پابندیاں اور مشرق وسطی میں دونوں ممالک کے متضاد تزویراتی مفادات ہیں۔ ایران کا مقف رہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی عدم استحکام کا باعث ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کی فوجی سرگرمیوں اور علاقائی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔
Comments
0 comment