2 hours ago
امریکی عوام نے جنگ مسترد کردی: ریپبلکنز کی شکست پر ایران میں خوشی کی لہر
Webdesk
|
4 Nov 2026
واشنگٹن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کرنے اور تاریخی پیش قدمی کے بعد، ایرانی حکام کی جانب سے پرمسرت ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ الیکشن میں ان کی پارٹی کی ناکامی کی ایک اہم وجہ رہی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام نے ضمیر کی آواز یا زندگی کے بڑھتے اخراجات کے باعث جنگ کے خلاف نو ٹو وار کا ووٹ دیا ہے اور تہران اس پیغام کی تائید کرتا ہے۔
باقر قالیباف نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر امریکی حکومت نے بین الاقوامی بلیک میلرز کے مفادات کے لیے اپنے عوام کے ارادے کو دھوکہ دیا تو وہ دیکھے گی کہ ایران کو انکار کس طرح ان کے لیے ایک ہولناک خواب ثابت ہوتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں سال فروری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی ایٹمی اور عسکری تنصیبات پر کیے گئے مشترکہ حملوں کے بعد سے مشرقِ وسطی میں جنگ جاری ہے، جس کے باعث امریکا میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عوامی سطح پر زندگی کے اخراجات سے متعلق شدید تشویش پیدا ہوئی۔
تہران میں سرکاری خبر رساں اداروں ارنا اور تسنیم نے ڈیموکریٹس کی کامیابی پر صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی تاریخی شکست کی سرخیاں شائع کی ہیں، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے ممکنہ امریکی اور اسرائیل حملے کے پیشِ نظر پہلے ہی اپنی مسلح افواج کو امریکی یا اسرائیلی کارروائی کا فوری، اثر انگیز اور کسی جغرافیائی حد کے بغیر جواب دینے کا حکم دے رکھا ہے۔
واشنگٹن میں قائم ادارے کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے شریک بانی تریتا پارسی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں اصل فتح ڈیموکریٹس کی نہیں بلکہ ایران کی ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل اور فاکس نیوز کو دیے گئے اپنے انٹرویوز میں تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ کے اثرات نے ریپبلکن امیدواروں کو نقصان پہنچایا اور انتخابات پر اثر ڈالا، تاہم انہوں نے تہران کے خلاف عسکری کارروائی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بالکل درست قدم اٹھایا اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک اکثریت والے آئندہ اقتداری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے ایسی قانون سازی بھیجی جسے وہ نامناسب سمجھتے ہیں تو وہ اسے صدارتی اختیار یعنی ویٹو کے ذریعے روک دیں گے اور چند ماہ بعد دونوں فریقین مل کر کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ طور پر نئی عسکری کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، تاہم دوسری طرف کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس وائٹ ہاس کو قانونی طور پر جنگ ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے وار پاورز ریزولیوشن پاس کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
Comments
0 comment