میر رضا کیس پر پولیس نے خودکشی کی غلط خبریں چلائیں، صحافیوں کی کمیشن میں بریفنگ

میر رضا کیس پر پولیس نے خودکشی کی غلط خبریں چلائیں، صحافیوں کی کمیشن میں بریفنگ

میر رضا کے پیچھے جوہر سے گاڑی لگی ہوئی تھی جو گیسٹ ہاؤس اور میر کے پیچھے سے نظر آئی
میر رضا کیس پر پولیس نے خودکشی کی غلط خبریں چلائیں، صحافیوں کی کمیشن میں بریفنگ

ویب ڈیسک

|

6 Oct 2026

کراچی: میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے صحافی بابر سلیم اور صولت جعفری نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور نقشوں کی مدد سے مختلف شواہد پیش کیے۔

پریزینٹیشن کے دوران صحافیوں اور وکیل جبران ناصر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج میں بظاہر میر رضا کی نگرانی اور گلستان جوہر سے ان کی گاڑی کا پیچھا کیے جانے کے شواہد دکھائی دیتے ہیں۔

پیش کیے گئے مواد کے مطابق میر رضا کے پیچھے نظر آنے والی ایک مشکوک گاڑی گیسٹ ہاؤس کے باہر رکی، جبکہ شام 4 بج کر 50 منٹ پر اسی گاڑی کو وہاں سے روانہ ہوتے دیکھا گیا۔

جبران ناصر کے مطابق پولیس کا مؤقف تھا کہ گاڑی میں موجود افراد گیسٹ ہاؤس میں ایک جھگڑا ختم کرانے کے لیے آئے تھے۔ دوسری جانب سی پی ایل سی ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ میر رضا شام 4 بج کر 25 منٹ تک آئی میسج کے ذریعے رابطے میں تھے۔

پریزینٹیشن میں 28 اور 29 جولائی کو علاقے میں ایک مشکوک آلٹو کار اور موٹر سائیکل سوار کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی۔ صحافیوں کے مطابق مذکورہ گاڑی اور موٹر سائیکل سوار مختلف مقامات کے علاوہ جائے وقوعہ کے قریب بھی نظر آئے۔

صحافیوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ تفتیش کے دوران کیس کو مبینہ طور پر غلط سمت میں لے جانے کی کوشش کی گئی اور میر رضا کی موت کو خودکشی کا رنگ دینے کے لیے غلط خبریں چلائی گئیں۔

صحافیوں کی جانب سے کمیشن کے سامنے نقشہ اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جمع کرائی گئی، تاہم فوٹیج فراہم کرنے والے افراد کی شناخت بتانے سے انکار کیا گیا۔

کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے تمام دعووں اور شواہد کا جائزہ تحقیقات کے دوران کیا جائے گا۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!