صومالی قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانی یرغمال، حکومت نے واپسی کیلیے اقدامات شروع کردیے

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانی یرغمال، حکومت نے واپسی کیلیے اقدامات شروع کردیے

وزیر بحری امور نے صومالیہ کے سفارت خانے کو خط لکھ دیا
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانی یرغمال، حکومت نے واپسی کیلیے اقدامات شروع کردیے

ویب ڈیسک

|

28 Apr 2026

صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے آئل ٹینکر پر حملے کے بعد یرغمال بنائے گئے پاکستانی عملے کی بازیابی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے اس معاملے پر صومالیہ کے سفیر کو خط لکھ کر جہاز "آنر 25" پر موجود پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کے لیے فوری تعاون کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کو عملے کی سلامتی پر شدید تشویش ہے اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب وزارت خارجہ صومالیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ صومالی حکام کے مطابق پاکستانی شہریوں اور جہاز سے متعلق تمام معلومات متعلقہ قومی سلامتی اداروں کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں، جبکہ ہر نئی پیش رفت سے پاکستان کو فوری آگاہ کیا جائے گا۔

پس منظر:

حالیہ برسوں میں خلیجِ عدن اور صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں بحری قزاقی کے واقعات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، تاہم عالمی بحری گشت اور سکیورٹی اقدامات کے باوجود بعض اوقات تجارتی جہاز اب بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ ان واقعات میں عموماً جہازوں کے عملے کو یرغمال بنا کر تاوان کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جس کے باعث متاثرہ ممالک کو سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات نہ صرف سمندری تجارت بلکہ عملے کی جانوں کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں، اسی لیے بین الاقوامی تعاون اور بروقت کارروائی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!