1989 سے 2026 تک، پاکستان میں کتنے لانگ مارچ ہوئے اور کس نے مقاصد حاصل کیے؟

1989 سے 2026 تک، پاکستان میں کتنے لانگ مارچ ہوئے اور کس نے مقاصد حاصل کیے؟

بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقات، عدالتوں میں کیسز کی سماعت اور دیگر مطالبات پر ان دنوں سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا مارچ جاری ہے
1989 سے 2026 تک، پاکستان میں کتنے لانگ مارچ ہوئے اور کس نے مقاصد حاصل کیے؟

عمیر دبیر

|

6 Oct 2026

 

پاکستان میں لانگ مارچ کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے مطالبات کیلیے لانگ مارچز کیے گئے جن میں سے بیشتر کا نتیجہ مذاکرات کے ذریعے ہی نکلا ہے۔

آئیے اس تحریر میں ہم نظر ڈالتے ہیں پاکستان میں ہونے والے مارچز پر جن کے کرنے کی وجوہات، مقاصد اور کامیابی یا ناکامی پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

ملک میں اسلام آباد کی جانب پہلا مارچ 1980 میں ہوا اور اُس کے بعد سے اب تک درجنوں بار سیاسی و مذہبی جماعتیں مارچ کرچکی ہیں جن میں سے کچھ کے نتیجے بھی نکلے جبکہ باقی یقین دہانیوں، معاہدوں یا پھر آپریشن کے ذریعے منتشر کیے گئے ہیں۔

زکوٰۃ آرڈیننس کے خلاف 1980 کا مارچ

فقہ جعفر حسین کی سربراہی میں فقہ جعفریہ نے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ کیا اور وفاقی سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرلیا۔

حکومت نے مذاکرات کے بعد شیعہ برادری کو سرکاری زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

 نواز شریف کا 1989 کا اسلام آباد مارچ

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور اپوزیشن جماعتوں نے اگست 1989 میں جنرل (ر) ضیا الحق کی پہلی برسی کے موقع پر مارچ کیا جس کا مقصد برسی کے اجتماع میں شرکت کرنا تھا۔

حکومت نے ابتدا میں اسلام آباد بند کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم بعد میں مارچ کے شرکا کو شہر میں داخلے کی اجازت دے دی گئی تھی اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب مارچ رہا تھا۔

بے نظیر کا 1992 کا لانگ مارچ

بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی نے نومبر 1992 میں انتخابی دھاندلی کے خلاف اسلام آباد کی جانب  مارچ کیا تاہم اس کا فوری نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

لانگ مارچ کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف حکومت برطرف کردی تھی تاہم سپریم کورٹ نے وزیراعظم اور حکومت کو بحال کردیا تھا۔

مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو اس مارچ کو جزوی طور پر کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے۔

جماعت اسلامی کا بے نظیر حکومت کے خلاف 1996 کا مارچ

قاضی حسین احمد کی سربراہی میں جماعت اسلامی نے 1996 میں بے نظیر کی حکومت کے خلاف راولپنڈی سے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جس میں 3 سیاسی کارکن جاں بحق بھی ہوئے تھے۔ تاہم اس مارچ سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

معزول ججوں کی بحالی کیلیے 2009 کی تحریک اور لانگ مارچ

سابق صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت دیگر ججز کو معزول کردیا تھا جس کے بعد وکلا تحریک شروع ہوئی پھر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر مارچ 2009 میں لانگ مارچ کیا گیا۔

مارچ لاہور سے اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا تھا کہ حکومت نے آخری وقت میں ججوں کی بحالی کا اعلان کردیا۔

طاہر القادری کی قیادت میں 2013 کا لانگ مارچ

پاکستان عوامی تحریک نے ڈاکٹر طاہر القداری کی سربراہی میں انتخابی نظام میں تبدیلی، اصلاحات اور حکومت کی تبدیلی کے خلاف لانگ مارچ کیا اور شرکا اسلام آباد پہنچ گئے جہاں انہوں نے کئی روز پڑاؤ ڈالا۔

شرکا نے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کے بعد ڈی چوک کے قریب دھرنا دیا جو حکومت کے ساتھ معاہدے طے ہونے پر ختم ہوا جبکہ وہ تمام مطالبات عملی طور پر نافذ نہیں ہوسکے۔

عمران خان کا 2014 کا مارچ اور دھرنا

پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی سربراہی میں 2013 کے الیکشن آڈٹ، وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کیلیے لانگ مارچ کیا اور پھر اسلام آباد میں ڈی چوک پر 126 روز کا دھرنا بھی دیا۔

اس دھرنے کے نتائج سامنے نہیں آسکے کیونکہ حکومت کی تبدیلی، آڈٹ ہوا اور نہ ہی نوازشریف نے بطور وزیراعظم استعفیٰ دیا۔ اس کے بعد 16   دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پشاور سانحے کے بعد عمران خان نے دھرنا ختم کردیا تھا۔

تحریک لبیک کا 2017 کا مارچ و دھرنا

تحریک لبیک پاکستان نے علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں لانگ مارچ کے بعد فیض آباد انٹرچینج پر 20 دن سے زائد دھرنا دیا۔ اُن کا مطالبہ انتخابی قانون میں ختمِ نبوت کے حلف سے متعلق ترمیم کا خاتمہ تھا۔

دھرنا مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے کیے گئے آپریشن میں متعدد ہلاکتوں کے بعد مظاہرین اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا اور کئی مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کا 2019 کا آزادی مارچ

جمعیت علما اسلام نے 2019 اکتوبر میں کراچی سے اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کیا اور پھر اسلام آباد پہنچ کر 13 روز تک دھرنا دیا۔ شرکا نے اُس وقت کے وزیراعطم عمران خان کی حکومت کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کی مکمل عملی حمایت نہ ملنے کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا جبکہ مولانا نے احتجاج کو دیگر حصوں تک لے جانے کا اعلان کیا تھا۔

پیپلزپارٹی کا 2022 کا عوامی مارچ

بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی نے 27 فروری کو کراچی سے حکومت مخالف مارچ کا آغاز کیا اور شرکا 8 مارچ کو اسلام آباد پہنچے۔

چند ہفتے بعد قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان حکومت ختم ہوگئی۔

عمران خان کا 2022 کا آزادی مارچ

پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی سربراہی میں ملک میں نئے انتخابات کیلیے مئی 2022 میں پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا اور کارکنان ڈی چوک کی جانب بڑھے تو شدید کشیدگی ہوئی جس پر بانی پی ٹی آئی نے مارچ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کا 2024 کا اسلام آباد لانگ مارچ

اُس وقت کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں تحریک انصاف نے خیبرپخٹونخوا سے اسلام آباد ڈی چوک کی طرف لانگ مارچ کیا جس کا بنیادی مطالبہ عمران خان اور پی ٹی آئی کارکنان کی رہائی تھا۔

علی امین گنڈاپور کی قیادت میں مرکزی قافلہ پشاور سے روانہ ہوا، جبکہ بشریٰ بی بی بھی قافلے میں شامل ہوکر اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئیں۔ پنجاب میں داخلے کے بعد دونوں نے کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔

ڈی چوک کے قریب حکامت اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی اور 26 نومبر کو سخت آپریشن کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے جس کے بعد علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی واپس روانہ ہوگئے تھے جس کے بعد اگلے روز مارچ و دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا

جماعت اسلامی کا لیوی کے خلاف لانگ مارچ

جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر دھرنوں کے بعد 20 مارچ کو کراچی سے اسلام آباد کی جانب بذریعہ ٹرین لانگ مارچ شروع کیا۔

جماعت اسلامی کا مارچ ملتان پہنچنے پر وزیراعظم نے امیر جماعت اسلامی سے رابطہ کر کے یقین دہانی کرائی جس پر مارچ کو مؤخر کردیا گیا تھا۔

عمران خان کیلیے ایک اور لانگ مارچ

تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقات، عدالتوں میں کیسز کی سماعت اور دیگر مطالبات کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا تاہم کچھ وجوہات کے بعد تاریخ کو 4 اکتوبر سے تبدیل کردیا گیا۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تین اکتوبر کو کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے جو آخر میں ڈیڈ لاک کی وجہ سے ناکام ہوئے تو پھر سہیل آفریدی نے لکی مروت سے بالقسط لانگ مارچ شروع کیا جس کا آج تیسرا روز ہے اور قافلے کوہاٹ کی جانب روان دواں ہے۔

مارچ میں شرکت کیلیے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کارکنان کی بھرپور تعداد کے ساتھ ڈی آئی خان سے نکلے تاہم دفعہ 144 کے نفاذ اور راستوں کی بندش کی وجہ سے وہ آدھے راستے سے لوٹ گئے۔

اس تحریر میں اُن تمام لانگ مارچز کو شامل کیا گیا ہے جس نے سیاسی منظر نامے پر بڑا اثر ڈالا ہے۔

 

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!