جگر کے مرض کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ دریافت

جگر کے مرض کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ دریافت

اس بیماری کے دوران جگر بہت زیادہ مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے
جگر کے مرض کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ دریافت

Webdesk

|

12 Oct 2026

جگر پر چربی چڑھنے کا مرض ایک دائمی عارضہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے۔عام طور پر اس بیماری کے لیے نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور یہ جگر کے امراض کی عام ترین قسم ہے۔

اس بیماری کے دوران جگر بہت زیادہ مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج نہ ہو تو اس کے افعال تھم جاتے ہیں۔جگر کی اس بیماری کے نتیجے میں میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

 اب اس کے تیزی سے پھیلا کی ایک اہم ترین وجہ دریافت ہوئی ہے۔درحقیقت پلاسٹک کی سب سے عام قسم پولی تھین سے خارج ہونے والے ننھے ترین ذرات ممکنہ طور پر جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کے پھیلا میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پولی تھین دنیا میں پلاسٹک کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی قسم ہے۔

تحقیق کے مطابق اس سے خارج ہونے والے ننھے ذرات جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر اگر کوئی فرد ناقص غذاں کا زیادہ استعمال کرتا ہو۔

اس تحقیق میں پولی تھین سے صحت پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر کے 25 فیصد افراد جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے سے متاثر ہیں اور یہ دنیا کے چند عام ترین طبی مسائل میں سے ایک ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پولی تھین کے ذرات سے جگر پر چربی کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر کوئی فرد چکنائی، میٹھے اور کولیسٹرول سے بھرپور غذاں کا استعمال کرتا ہو تو یہ خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور ناقص غذائی عادات ایک دوسرے کے منفی اثرات کو بڑھا دیتے ہیں اور جگر کو پہنچنے والا نقصان بدتر ہو جاتا ہے۔محققین نے بتایا کہ اگر آپ فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، تو اس بات کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے کہ جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج اس لیے غیرمتوقع ہیں کیونکہ روایتی طور پر پولی تھین کو اسے حیاتیاتی نظاموں کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مگر نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ پولی تھین جگر کے افعال پر توقعات سے زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئے۔خیال رہے کہ صحت مند جگر میں چربی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور اس میں معمولی اضافے کو بھی بیماری تصور کیا جاتا ہے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!