ٹرمپ حکومت کا اسرائیل کو بڑے پیمانے پر بم فروخت کرنے کا منصوبہ

ٹرمپ حکومت کا اسرائیل کو بڑے پیمانے پر بم فروخت کرنے کا منصوبہ

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 2 ہزار پانڈ وزنی ہزاروں بموں کی تیاری شروع کردی
ٹرمپ حکومت کا اسرائیل کو بڑے پیمانے پر بم فروخت کرنے کا منصوبہ

Webdesk

|

16 Sep 2026

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 2 ہزار پانڈ وزنی ہزاروں بموں کی تیاری شروع کردی جو حالیہ برسوں میں اس متنازع ہتھیار کی سب سے بڑی ڈیل ہوگی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ 2.8 ارب ڈالر کے اس دفاعی پیکیج میں 2 ہزار پانڈ وزن کے 40 ہزار بم شامل ہیں، جن میں 20 ہزار MK-84 اور 20 ہزار BLU-117 بم شامل ہیں جبکہ اس فروخت میں 20 ہزار I-2000 پینیٹریٹر وار ہیڈز بھی شامل ہیں۔

مغربی ممالک کے فوجی ہتھیاروں میں سب سے زیادہ تباہ کن سمجھے جانے والےMK-84 بم کے دھماکے کے نتیجے میں ہزاروں فٹ دور تک ہر سمت میں دھات کے ٹکڑے پھیل جاتے ہیں۔

یہ بم دھات اور سخت کنکریٹ کو چیرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق اس پیکج کا حجم بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اسرائیل کو 2 ہزار پانڈ کے ہتھیاروں کی فروخت کے پچھلے تمام معاہدوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں سیکڑوں مواقع پر ان 2 ہزار پانڈ کے بموں کا استعمال کیا ہے جس نے ان تنازعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

 اسرائیل کو غزہ میں عام شہریوں کے لیے محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں بھی MK-84 بم گرانے پر شدید عالمی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ واحد ہتھیار ہے جس کی ترسیل صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے غزہ جنگ کے دوران فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل کے لیے روک دی تھی۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!