مہینوں کی نگرانی کے بعد 1 منٹ کی بمباری، خامنہ ای کی شہادت کیسے ممکن ہوئی؟

مہینوں کی نگرانی کے بعد 1 منٹ کی بمباری، خامنہ ای کی شہادت کیسے ممکن ہوئی؟

شہادت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ انہوں نے ایران میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا
مہینوں کی نگرانی کے بعد 1 منٹ کی بمباری، خامنہ ای کی شہادت کیسے ممکن ہوئی؟

ویب ڈیسک

|

2 Mar 2026

تہران کی فضا اُس وقت سوگوار ہوگئی جب ایرانی حکومت نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی۔

سرکاری اعلان کے مطابق سپریم لیڈر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ جاں بحق ہوئے۔

کچھ ہفتے قبل مغربی میڈیا، خصوصاً نیویارک ٹائمز میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر ممکنہ خطرات کے پیش نظر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو سکتے ہیں۔

تاہم ان کے دفتر کی جانب سے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اب ان کی شہادت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ انہوں نے ایران میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملہ تہران میں ایک حساس مقام پر کیا گیا جہاں ایک اہم دفاعی اجلاس ہونا تھا۔ اسی کارروائی میں وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پالپور، سپریم نیشنل سیکیورٹی کے سربراہ علی شمخانی اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار بھی شہید ہوئے ہیں

امریکی صدر ٹرمپ نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ ایرانی قیادت کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی اور جدید نگرانی کے نظام استعمال کیے گئے۔

نگرانی کیسے کی گئی؟

اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو ایک اہم اطلاع ملی تھی جس کے بعد اسرائیل کو آگاہ کیا گیا۔ اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد پہلے ہی ایران میں مبینہ طور پر اپنے نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم تھا۔

کارروائی 60 سیکنڈ میں ہوئی

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ زیرِ زمین بنکر کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد بم استعمال کیے گئے اور کارروائی صرف 60 سیکنڈ میں مکمل کی گئی۔ ان کے مطابق اس حملے میں ایرانی سیکیورٹی قیادت کے کئی اہم افراد بھی مارے گئے۔

مخبری کیسے ہوئی؟

 اس نوعیت کی کارروائی کے لیے طویل منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ ٹیلی فون اور دیگر مواصلاتی ذرائع کی نگرانی، قریبی افراد کی نقل و حرکت پر نظر اور زمینی مخبروں کی مدد جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور موساد نے 6 ماہ سے نگرانی شروع کردی تھی جس کیلیے جدید تکنیک اور افرادی قوت سے مدد لی گئی جن کی کامیاب مخبری سے ہی ہدف ممکن ہوا۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!