شارع فیصل کال سینٹر سے 200 سے زائد لوگ گرفتار، این ڈی سی آئی اے کا والدین کیخلاف کارروائی کا عندیہ

شارع فیصل کال سینٹر سے 200 سے زائد لوگ گرفتار، این ڈی سی آئی اے کا والدین کیخلاف کارروائی کا عندیہ

این سی سی آئی اے نے بتایا کہ ہمارے پاس گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے تک رکھنے کا قانونی اختیار ہے
شارع فیصل کال سینٹر سے 200 سے زائد لوگ گرفتار، این ڈی سی آئی اے کا والدین کیخلاف کارروائی کا عندیہ

ویب ڈیسک

|

5 Nov 2026

کراچی: شارع فیصل پر کال سینٹر کے خلاف کارروائی کے دوران 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں سے کام لینے کے معاملے پر والدین کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر نے گزشتہ روز کی گئی کارروائی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کمپنی کے خلاف ماضی میں بھی چھاپہ مارا جا چکا ہے، تاہم اس بار کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کے مطابق بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں انہیں کام پر لگایا جا رہا تھا، جس پر سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ والدین کے خلاف بھی دفعہ 109 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ این سی سی آئی اے کا مقصد خواتین اور بچوں کو بلاوجہ ہراساں کرنا نہیں بلکہ انہیں استحصال اور جعلسازی سے محفوظ رکھنا ہے۔

کال سینٹرز کے نام بدل کر فراڈ جاری رکھنے کا انکشاف

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہا کہ بعض کال سینٹرز کے ملازمین کو مبینہ جعلسازی کے طریقہ کار کا علم ہوتا ہے، جبکہ مالکان اس سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ملازمین کا مجرمانہ ریکارڈ مرتب نہ کیا جائے تو اس نوعیت کے فراڈ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ بعض گروپس کے مالکان کی گرفتاری کے بعد ان کے رشتے دار نام تبدیل کرکے نئی کمپنیاں قائم کرلیتے ہیں اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیاں دوبارہ شروع کردیتے ہیں۔

آن لائن منشیات اور ملازمتوں کے فراڈ کے خلاف بھی کارروائی

شہزاد اکبر کے مطابق این سی سی آئی اے دیگر جرائم کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ آن لائن منشیات کی فروخت سے متعلق ویب سائٹس سامنے آئی ہیں اور تعلیمی اداروں میں منشیات پہنچانے والے مبینہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آن لائن ملازمتوں کے نام پر فراڈ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن پر ادارہ کام کر رہا ہے۔ ان کے بقول بعض جعلساز جیز کیش کے ذریعے مختلف طریقوں سے رقم منتقل کرتے ہیں، جس کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہا کہ ادارہ مختلف نوعیت کے فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔

 

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!