سعد سے سعدیہ بننے والی باہمت حافظ قرآن لڑکی جو آج عوامی نمائندہ ہیں!

سعد سے سعدیہ بننے والی باہمت حافظ قرآن لڑکی جو آج عوامی نمائندہ ہیں!

اسکول کے زمانے میں انہیں مسلسل مذاق، طعنوں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا
سعد سے سعدیہ بننے والی باہمت حافظ قرآن لڑکی جو آج عوامی نمائندہ ہیں!

Webdesk

|

13 Jan 2026

کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں سعد کے نام سے پیدا ہونے والی سعدیہ کی زندگی ایک عام کہانی نہیں بلکہ یہ عزم و ہمت کی ایک داستان ہے۔

تفصیلات کے مطابق چھ بہنوں پر مشتمل گھرانے میں جنم لینے والی سعد کے والدین نے کو ابتدا میں ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کا بچہ ٹرانسجینڈر ہے، جس کے بعد انہوں نے سماجی دباؤ کے باوجود اس کی پرورش محبت اور حفاظت کے ساتھ کی۔

ڈائیلاگ پاکستان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ نے بتایا کہ وہ حافظِ قرآن ہیں اور بچپن ہی سے ان کا اٹھنا بیٹھنا، کھیل کود اور رہن سہن فطری طور پر لڑکیوں جیسا تھا۔ ان کے والدین نے اس حقیقت کو قبول کیا اور معاشرے کی سختیوں سے بچانے کی بھرپور کوشش کی۔

سعدیہ کے مطابق خاندان نے برسوں تک ان کی شناخت کو چھپائے رکھا کیونکہ معاشرہ بہت جلد ٹرانسجینڈر افراد کو نشانہ بناتا ہے۔

اسکول کے زمانے میں انہیں مسلسل مذاق، طعنوں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ معاشرہ صرف امتیاز نہیں برتتا بلکہ جینے کا حق بھی مشکل بنا دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پڑوسی اکثر ان کے والدین سے آ کر سوال کرتے تھے، ایسی صورتحال میں بہت سے والدین ہمت ہار جاتے ہیں، مگر ان کے والدین ڈٹے رہے۔

سعدیہ کا کہنا تھا کہ ان کی پرورش اس طرح ہوئی کہ وہ بیک وقت والد کی اولاد اور ماں کی بیٹی بن کر رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خاندانی حالات اس وقت مزید خراب ہو گئے جب ان کے والد کا کتابوں کی جلد سازی کا کام ختم ہو گیا۔ ایسے میں سعدیہ نے خود کام شروع کیا اور ان کی پہلی آمدنی صرف 200 روپے تھی، جو اس مشکل وقت میں ان کے لیے بہت بڑی بات تھی۔

سعدیہ نے بتایا کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے بہنوں کے رشتوں پر بھی اثر پڑا اور کئی بار رشتے واپس لے لیے گئے۔ بعد ازاں ان کے والد اچانک ایک رکشے میں سفر کے دوران انتقال کر گئے، جس کے بعد زندگی اور بھی سخت ہو گئی۔

سعد سے سعدیہ بننے والی نے بتایا کہ والد کے بعد کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کس حال میں ہیں۔ اپنی شناخت کے بعد انہیں طنز اور تضحیک کا سامنا رہا، مگر انہوں نے ہار نہیں مانی۔

بالآخر سعدیہ نے مقامی حکومت کے انتخابات میں حصہ لیا اور جناح ٹاؤن سے بلا مقابلہ کونسلر منتخب ہو گئیں۔ آج وہ نہ صرف ایک عوامی نمائندہ ہیں بلکہ حوصلے، جدوجہد اور تبدیلی کی ایک مضبوط علامت بھی بن چکی ہیں۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!