5 hours ago
ایران پر اسرائیل اور امریکا کا مشرکہ حملہ، 51 شہادتیں، سپریم لیڈر کا گھر تباہ
ویب ڈیسک
|
28 Feb 2026
تہران: ایران کے دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف شہروں میں یکے بعد دیگرے دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق تہران میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بعض اہم سرکاری عمارتوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی خبریں ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تہران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر اور صدارتی دفتر کے قریب دھماکے ہوئے۔ اسی طرح شہر کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
ملک کے دیگر شہروں کرمانشاہ، قم، اصفہان، تبریز، کرج اور جنوبی ساحلی علاقے کنارک میں بھی فوجی تنصیبات اور ایرانی بحریہ سے متعلق مقامات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مغربی ایران کے کرد علاقے کے شہر کامیاران میں ایک مبینہ پاسدارانِ انقلاب کے اڈے پر حملے کے مناظر دکھائے گئے ہیں، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی تنصیبات اور حساس مقامات کے قریب سے فوری انخلاء کرلیں۔
تہران کے علاقے نرماک سے موصولہ تصاویر میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ اس وقت گھر میں موجود تھے یا نہیں اور آیا انہیں کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔
ایرانی وزارتِ داخلہ نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز مکمل طور پر متحرک ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق ملک بھر کے متعدد اسپتالوں کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظر الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
حالیہ پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اُدھر ایرانی سپریم کمانڈر خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ تباہ ہوگئیں جبکہ کہا گیا ہے کہ دونوں محفوظ ہیں۔
Comments
0 comment