پاکستان کا افغان طالبان کیخلاف آپریشن غضب للحق، 297 کارندے ہلاک
Webdesk
|
26 Feb 2026
کوئٹہ: پاکستان نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کردیا، جس کے تحت اب تک 297 کارندے ہلاک اور 450 زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے نئی پیشرفت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 27 فروری کی رات گیارہ بجے تک پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں افغان طالبان سمیت 297 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں 450 سے زائد کارندے زخمی ہوئے جبکہ افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ، 18 پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ افغانستان کے 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کردیے گئے جبکہ افغانستان کے اندر 29 مقامات پر فضائی کارروائیوں میں اہداف کو مؤثر انداز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل سکیورٹی ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے اور خوارج بھاگ نکلے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر میں بھرپور جواب دیا، چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نینشانہ بنا کر تباہ کردیا۔
سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ کر دیں، افغان طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی، پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔
Comments
0 comment