مکہ مکرمہ پر حملہ ہوا تو اسے عالم اسلام پر حملہ سمجھا جائے گا، فضل الرحمان
ویب ڈیسک
|
16 Sep 2026
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ پر کسی بھی حملے کو پورے عالمِ اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی عقیدت اور مذہبی وابستگی کا مرکز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مکہ مکرمہ پر کوئی حملہ کیا گیا تو حملہ آوروں کو عالمِ اسلام کے شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ امتِ مسلمہ حرم مکی اور سعودی عرب کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر جواب دے گی۔
جے یو آئی سربراہ نے مسلم ممالک، بالخصوص پاکستان، سے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب اور حرم مکی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ حرمین شریفین کے تحفظ سے متعلق اپنی پالیسی کا واضح اور فوری اعلان کرے۔
دوسری جانب یمن کے لیے قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کردیا۔
تاہم روئٹرز کے مطابق حوثی عہدیدار محمد الفرح نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو ’کھلا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔
اس صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف بھی مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرچکے ہیں اور کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے دفاع میں شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ موجودہ چیلنجز کے پیش نظر مسلم دنیا کو ایک مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہورہی ہے۔
Comments
0 comment