خیبرپختونخوا کے 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہوں و پنشن میں بڑا اضافہ
Webdesk
|
19 Jun 2026
پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا، جس میں 48 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اور کم از کم تنخواہ 45 ہزار کرنیکی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے اور بجٹ کا مجموعی حجم 2 ہزار 122 ارب روپے رکھا گیا ہے. اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں. موجود مالی سال میں 7952نئی آسامیاں تخلیق کی گئیں، 1100 اسکولوں کو شمسی توانائی پرمنتقل کیا گیا، ضم اضلاع کے 10 ہزار طلبا و طالبات میں 9 ہزار روپے فی طالب علم کے حساب سے تقسیم کیا گیا۔
وزیراعلی نے کہا کہ رواں مالی سال بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کیلیے4.29 ارب روپے جاری کیے گئے جبکہ نئے بجٹ میں ضلعی حکومتوں کے لیے 52.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ضم شدہ اضلاع میں اے آئی پی کی مد میں 52 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بیرونی امداد اور قرضوں کی مد میں 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 5 ارب 18 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے.جاری اخراجات کے لیے 1 ہزار 645 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے اور کم از کم ماہانہ اجرت 5 ہزار روپے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں امن و امان کے لیے 191 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 200 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے، احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب اور صحت کارڈ کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم ٹی آئی اسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے اور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بی آر ٹی کے لیے 7.5 ارب اور خوش حال ہزارہ پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ بجٹ میں اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین اور احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور بیرون ملک روزگار کے خواہش مند افراد کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک بائیکس اور رکشہ منصوبے کے لیے 2.5 ارب روپے، صحت کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب، تعلیم کے لیے 468 ارب روپے اور محکمہ بلدیات کے لیے 90 ارب، محکمہ داخلہ کے لیے 29 ارب اور ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعلی نے بتایا کہ صوبائی بجٹ میں زراعت کے لیے 29 ارب، توانائی کے لیے 42 ارب اور زکو کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
Comments
0 comment