حکومت کا جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے سے متعلق بڑا فیصلہ

حکومت کا جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے سے متعلق بڑا فیصلہ

ادویات پر بارکوڈ سسٹم کے نفاذ سے ادویات کی ٹریکنگ ممکن ہو سکے گی
حکومت کا جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے سے متعلق بڑا فیصلہ

Webdesk

|

27 Jun 2026

اسلام آباد: حکومت نے ملک سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ کرلیا۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے ملک سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ 60 دن کے اندر تمام ادویات پر بارکوڈ سسٹم متعارف کرا دیا جائے گا، جس کے لیے وزارتِ صحت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ادویات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پاکستان میں 17 اور 18 جولائی کو ایک میگا پاک-چین بزنس ٹو بزنس  فارما کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے۔

اس کانفرنس میں اب تک 150 سے زائد مقامی فارما کمپنیوں نے رجسٹریشن کروا لی ہے، جبکہ چین کی جانب سے بھی 100 سے زائد فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس میں شرکت کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت چین سے میڈیکل ڈیوائسز، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس، نئی ادویات، جدید مالیکیولز اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری لانا چاہتی ہے تاکہ مقامی صنعت مضبوط ہو اور پاکستان خطے میں فارماسیوٹیکل مرکز بن سکے۔

مصطفی کمال نے واضح کیا کہ فارما سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہماری حکمتِ عملی یہ ہے کہ محض روایتی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے کے بجائے ٹھوس اور عملی معاہدوں پر توجہ دی جائے، جس کے لیے کانفرنس سے قبل ہی کمپنیوں کے درمیان ورچوئل میٹنگز کا آغاز کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ہم ملکی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود پاکستان میں تیار کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان ادویات کی تیاری کے لیے 99 فیصد خام مال باہر سے درآمد کیا جاتا ہے، جس میں سب سے بڑا ذریعہ چین ہے۔ 1خام مال کی مکمل درآمد ایک معاشی چیلنج ہے اور ملکی درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے اب ہمیں ادویات کا خام مال مقامی سطح پر خود تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے بارکوڈ سسٹم کی افادیت اور ادویات کے معیار پر عوامی تاثر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جعلی ادویات بنانے کا غیر قانونی کاروبار اربوں ڈالرز پر محیط ہے۔ انہوں نے معاشرے میں پائے جانے والے ایک عام تاثر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یہ ایک عام پرسیپشن بن چکا ہے کہ سر درد کی جو دوا دبئی سے آ رہی ہے وہ فوری اثر کرتی ہے۔

اگرچہ تکنیکی طور پر یہ رائے غلط ہو سکتی ہے، لیکن ہمیں اس تاثر کو ختم کرنا ہے۔مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ  ادویات پر بارکوڈ سسٹم کے نفاذ سے ادویات کی ٹریکنگ ممکن ہو سکے گی، مریضوں کو اصلی دوا کی فراہمی یقینی بنے گی اور مارکیٹ سے جعلی ادویات کا مکمل صفایا ہو جائے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!