ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی، دونوں طرف سے حملوں کے الزامات

ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی، دونوں طرف سے حملوں کے الزامات

ایران نے خطے میں موجود امریکی افواج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا
ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی، دونوں طرف سے حملوں کے الزامات

Webdesk

|

27 Jun 2026

واشنگٹن/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر ڈرون حملے کا الزام عائد کرنے کے بعد امریکا نے ایران پر تازہ حملے کیے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی ریاستی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں موجود امریکی افواج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق تازہ کارروائیاں اس الزام کے بعد کی گئیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک سنگاپور کے پرچم بردار کارگو جہاز کو چار ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایک ڈرون جہاز کے بالائی حصے سے ٹکرایا، جبکہ باقی تین کو روک لیا گیا۔ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس واقعے کو خطے میں سمندری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف سخت ردعمل دیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے کی گئی تازہ کارروائیوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں جہاں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں، وہاں متعدد مقامات کو منظم حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، خصوصاً اس لیے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی توانائی کی ترسیل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ایران پہلے بھی یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے، جسے مغربی ممالک سمندری آزادیِ نقل و حرکت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!