ٹرمپ حوثیوں پر حملے کے لیے تیار تھے، آخری وقت میں فیصلہ تبدیل کیا: امریکی اخبار

ٹرمپ حوثیوں پر حملے کے لیے تیار تھے، آخری وقت میں فیصلہ تبدیل کیا: امریکی اخبار

اس دوران حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے قریب اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا رہے تھے
ٹرمپ حوثیوں پر حملے کے لیے تیار تھے، آخری وقت میں فیصلہ تبدیل کیا: امریکی اخبار

Webdesk

|

21 Sep 2026

واشنگٹن: سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کی درخواست کی. جس کے بعد امریکی فوج کو حملے کی تیاری کا حکم بھی دیا گیا۔

 تاہم چند روز بعد صدر ٹرمپ نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کارروائی روک دی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تقریبا دو ہفتوں سے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد کی درخواست پر غور کر رہی تھی۔

اس دوران حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے قریب اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا رہے تھے اور سعودی عرب کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت اہم مرحلے میں پہنچا جب گزشتہ جمعرات کو محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ سے براہ راست بات کی اور ایک بار پھر امریکا پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کرے۔

محمد بن سلمان کی کال سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ وہ حوثیوں کے خلاف امریکی فضائی حملوں کے حق میں نہیں ہیں۔

 تاہم سعودی ولی عہد سے گفتگو کے بعد ان کا مقف تبدیل ہوگیا اور انہوں نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو ممکنہ فضائی حملوں کی تیاری کا حکم دے دیا۔امریکی فوج نے حملے کی تیاری بھی شروع کردی تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈروں نے حوثیوں کے ممکنہ اہداف کی فہرست تیار کرلی تھی جبکہ امریکی طیاروں پر بم بھی لادے جا رہے تھے۔

 حملہ شروع ہونے کے قریب تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ تبدیل کردیا اور کارروائی روک دی۔وائٹ ہاس کے پریس دفتر نے صدر ٹرمپ کی اندرونی مشاورت کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

تاہم ایک سینئر امریکی انتظامی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں کا دفاع کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے کے بیشتر افراد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں امریکا کی براہ راست شمولیت کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں یا اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!