سانحہ پمز، وزیراعظم کا 8 افسران کو معطل کر کے فوجداری کارروائی کا حکم، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بھی شامل

سانحہ پمز، وزیراعظم کا 8 افسران کو معطل کر کے فوجداری کارروائی کا حکم، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بھی شامل

بچوں کو جان پر کھیل کر بچانے والی نرس کیلیے نقد انعام کا اعلان
سانحہ پمز، وزیراعظم کا 8 افسران کو معطل کر کے فوجداری کارروائی کا حکم، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بھی شامل

ویب ڈیسک

|

29 Aug 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ پمز کی رپورٹ میں نشاندہی کیے جانے والے 8 افراد کو فوری طور پر معطل کر کے تحقیقات کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی. 

وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل کرے انکے خلاف فوری کاروائی کرنے کی منظوری دے دی.

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمٹل کاروائی بلکہ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت کاروائی کی جائے.

جن افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی اُن میں پمز کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر وارث علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئیر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں. 

وزیرِ اعظم نے بلا امتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اسکے عہدیداران کے خلاف کاروائی کی بھی منظوری دی.

وزیرِ اعظم کی اپنی جان کی پراہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت دینے اور ایک کروڑ روپے کی منظوری دی. وزیرِ اعظم نے وارڈ میں موجود دیگر ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت کی کہ ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او- این آئی ایچ (NIH) کو پمنز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر تعینات کیا جائے اور جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے انکی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی جائے. وزیرِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی بھی ہدایت کی. رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویپ سائیٹ پر آویزاں کر دی جائیگی. 

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں.  اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا. معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے. بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں. واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائیگی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ عفلت سے کسی ماں سے اسکا لخت جگر جدا نہ ہو. 

 

وزیرِ اعظم نے نرس رضیہ نورین کی جانب سے کمال ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ کے باوجود تباہی سے کچھ لمحوں پہلے بھاگ کر ایک بچے کو بچانے کے عمل پر خراج تحسین کیا. وزیرِ اعظم نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے کمال ذمہ داری اور انسانیت کا بہترین ثبوت دیا. اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچانے پر مجھ سمیت پوری قوم کو نرس رضیہ نورین پر فخر ہے. ایسے فرض شناس لوگوں کی جس قدر ستائش کی جائے کم ہے.  

 

اجلاس کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی. تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی اجلاس میں چلائی گئی. 

 

ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں. بریفنگ میں بتایا گیا کہ پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا. واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا. واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے. آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا. ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک بچے کی جان بچائی. 

 

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا. صرف ایک ماہ پہلے جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا، جس کے بعد بھی ہسپتال میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ اقدامات نہیں لئے گئے. وارڈ میں کوئی فائر الارم، سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا. نیو نیٹل وارڈ میں ڈبلیو ایچ او کے اس حوالے سے تمام تر قوائد کی خلاف ورزی پائی گئی. ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی. 

 

اجلاس کو ہسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا. وزیرِ اعظم نے تحقیقات کو مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی. 

 

اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفی کمال، کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، ارکان بیرسٹر نبیل اعوان، میجر جنرل (ر) خورشید اترا، اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

 

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!