سانحہ پمز: انکوائری رپورٹ میں 10 افسران کو ہٹانے کی سفارش، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت

سانحہ پمز: انکوائری رپورٹ میں 10 افسران کو ہٹانے کی سفارش، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت

رپورٹ میں متعدد سینئر افسران کو واقعے میں غفلت اور انتظامی کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے
سانحہ پمز: انکوائری رپورٹ میں 10 افسران کو ہٹانے کی سفارش، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت

ویب ڈیسک

|

29 Aug 2026

اسلام آباد: پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کی اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 10 افسران اور متعلقہ عملے کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں متعدد سینئر افسران کو واقعے میں غفلت اور انتظامی کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے پمز کے انتظامی نظام کو بھی ناقص قرار دیتے ہوئے اسپتال میں مستقل گورننگ بورڈ بنانے اور موجودہ عہدوں پر اہل افراد تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال کی مؤثر نگرانی اور انتظام کے لیے گورننگ بورڈ ضروری ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں نرسری میں 15 سے زائد بچوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کو درست نہیں قرار دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نرسری میں 15 سے زیادہ بچوں کی گنجائش نہیں تھی، جبکہ آگ کے بعد ہونے والے دھماکے کی وجہ آکسیجن کو قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پمز میں طبی سہولیات کے معیار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسپتال میں کئی انتظامات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، جبکہ رپورٹ عام کرنے کا اختیار بھی وزیراعظم کو دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے تحقیقاتی رپورٹ پر غور کے لیے لاہور میں اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں وزیر صحت مصطفیٰ کمال سمیت متعلقہ حکام شرکت کریں گے۔

دوسری جانب وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر کو جامع تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر عمران سکندر نے میڈیا سے گفتگو سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ انکوائری رپورٹ آنے تک میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!