ڈیپ فیک اور اے آئی مواد بڑا چیلنج ہے، شرجیل میمن

ڈیپ فیک اور اے آئی مواد بڑا چیلنج ہے، شرجیل میمن

یہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے
ڈیپ فیک اور اے آئی مواد بڑا چیلنج ہے، شرجیل میمن

Webdesk

|

5 Feb 2026

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ڈیپ فیک اور اے آئی مواد حکومت و معاشرے دونوں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ شہر قائد میں جاری کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوسرے روز کو اہم عالمی مباحث کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

کانفرنس کے ایجنڈے میں فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے رجحان، موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات، جمہوری اقدار کے فروغ، مختلف ممالک کے نمائندوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی، باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، عالمی چیلنجز کے موثر حل کی تلاش اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال شامل تھا۔

سی پی اے کانفرنس کے دوسرے روز فیک نیوز اور آرٹیفشل انٹیلیجنس سے متعلق سیشن کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کی میزبانی شرمیلا فاروقی نے کی جب کہ پینل ڈسکشن میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اے آئی سے تیار جعلی مواد معاشرے کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ محکمہ اطلاعات 24 گھنٹے صورتحال کی نگرانی میں مصروف ہے، تاہم جعلی و حقیقی مواد کی شناخت کے لیے موثر نظام کی ضرورت ہے، جس کے لیے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ٹی وی چینلز کے نام پر جھوٹی خبریں پھیلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ آواز و ویڈیوز کی نقل سازی کے ذریعے غلط معلومات عام کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہے۔

صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ جعلی مواد پھیلانے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ جھوٹی معلومات کسی کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے فیک نیوز کو پورے معاشرے کے لیے سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مضبوط قانون سازی ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ پیکا ایکٹ پہلے سے نافذ ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے کیونکہ غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!