دنیا بھر میں پھیلنے والے موذی اور مہلک وائرس ہنتا سے پہلی ہلاکت، علامات کیا ہیں؟

دنیا بھر میں پھیلنے والے موذی اور مہلک وائرس ہنتا سے پہلی ہلاکت، علامات کیا ہیں؟

اب تک کی تحقیق کے مطابق یہ وائرس کترنے والے جانوروں کے کاٹنے کیوجہ سے پھیلتا ہے
دنیا بھر میں پھیلنے والے موذی اور مہلک وائرس ہنتا سے پہلی ہلاکت، علامات کیا ہیں؟

ویب ڈیسک

|

8 May 2026

ایک مسافر بردار بحری جہاز میں سفر کے دوران ہنتا وائرس سے مبینہ ہلاکت کے اعلان کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایم وی ہونڈیئس کے کپتان نے جہاز کے اندر عوامی نشریاتی نظام کے ذریعے مسافروں کو آگاہ کیا کہ ایک شخص ہنٹا وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گیا ہے۔

ویڈیو میں کپتان کو نہایت سنجیدہ انداز میں مسافروں سے گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اعلان سنتے ہی جہاز میں موجود کئی افراد پریشانی اور خوف میں مبتلا دکھائی دیے۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ دورانِ سفر پیش آیا، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے وائرس کی نوعیت اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے اور صارفین بحری سفر کے دوران صحت و سلامتی کے انتظامات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارۂ صحت نے ہنتا وائرس سے متعلق حالیہ واقعات کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ماہرین اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی مختلف اقسام کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق لیبارٹری معائنے اور وبائی تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وائرس کس انداز میں پھیل رہا ہے اور اس کے اثرات کس حد تک خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ہنتا وائرس کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق ہنتا وائرس کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ صدیوں سے موجود ہے، جس کے شواہد ایشیا اور یورپ میں ملتے رہے ہیں۔ مشرقی خطوں میں یہ وائرس شدید بخار، گردوں کی خرابی اور اندرونی خون بہنے جیسی پیچیدگیوں سے منسلک رہا ہے، جبکہ امریکا میں اس کی ایک الگ قسم پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی خطرناک بیماری کا باعث بنی، جسے ہنتا وائرس پلمونری سنڈروم کہا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں اس وائرس نے دوبارہ توجہ حاصل کی، خاص طور پر اس وقت جب بیٹسی آراکاوا کی ہلاکت کو ہنتا وائرس سے جوڑا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس عموماً چوہوں اور دیگر کترنے والے جانوروں کے فضلے، پیشاب یا تھوک کے ذریعے انسانوں تک منتقل ہوتا ہے، خاص طور پر جب آلودہ ذرات ہوا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوں۔

کیسے پھیلتا ہے؟

ماہرینِ صحت کے مطابق بند اور کم ہوا دار جگہوں، جیسے گوداموں، کیبن یا شیڈز کی صفائی کے دوران اس وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ انسان سے انسان میں منتقلی کے واقعات کم ہیں، تاہم عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بعض صورتوں میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔

ہنتا وائرس کی علامات کیا ہیں؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی علامات میں بخار، جسم درد، ٹھنڈ لگنا اور سر درد شامل ہوتے ہیں، جبکہ بیماری بڑھنے پر سانس لینے میں دشواری اور سینے میں جکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں پھیپھڑوں میں پانی بھرنے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر

ماہرین کے مطابق اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم بروقت طبی امداد سے مریض کے بچنے کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ چوہوں اور ان کے فضلے سے دور رہیں، صفائی کے دوران دستانے اور جراثیم کش محلول استعمال کریں، جبکہ جھاڑو یا ویکیوم کلینر کے استعمال سے گریز کریں تاکہ وائرس کے ذرات فضا میں نہ پھیل سکیں۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!