پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان پام آئل کی تجارت کا معاہدہ طے
ویب ڈیسک
|
12 Jan 2026
پاکستان اور انڈونیشیا نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پام آئل کی تجارت سے متعلق اہم معاہدوں پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے اور دسمبر 2025 میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کے متوقع دورۂ پاکستان کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں اسلام آباد میں انڈونیشیا کے سفارت خانے اور کراچی میں انڈونیشیا کے قونصلیٹ جنرل کی جانب سے، انڈونیشین پام آئل ایسوسی ایشن (GAPKI) کے تعاون سے ایک تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت دیاح رورو استی ودیا پتری، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوتجو اور دونوں ممالک کے سرکاری و تجارتی نمائندوں نے شرکت کی۔
کراچی میں خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے اور پاکستانی منڈی، صنعت اور صارفین ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوتجو نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات اب ایک زیادہ اسٹریٹجک اور مستقبل پر مبنی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پام آئل اگرچہ دوطرفہ تجارت کا اہم جزو ہے، تاہم انڈونیشیا دیگر شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ تجارتی توازن مضبوط ہو سکے۔
GAPKI کے چیئرمین ایڈی مارٹونو نے بتایا کہ ان کی تنظیم پاکستان کو پام آئل کی مستقل اور ذمہ دار سپلائی یقینی بنانے کے لیے حکومتی سطح پر تعاون کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشین کمپنیوں اور پاکستانی خریداروں کے درمیان براہِ راست تجارتی معاہدوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ریفائننگ اور پروسیسنگ کے شعبوں میں تکنیکی اشتراک بھی بڑھایا جائے گا۔
تقریب کے دوران تین اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مشترکہ تجارتی کمیشن کے قیام کا معاہدہ شامل ہے، جبکہ GAPKI اور پاکستان کی خوردنی تیل و ویجیٹیبل گھی انڈسٹری کی تنظیموں کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتیں بھی طے پائیں۔ دونوں ممالک نے ریفائننگ، حلال سرٹیفکیشن، پائیداری اور بندرگاہی لاجسٹکس میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بھی اتفاق کیا اور کراچی کو جنوبی ایشیا میں اقتصادی تعاون کے لیے ایک فطری شراکت دار قرار دیا۔
Comments
0 comment