میر رضا کیس اپ ڈیٹ، اہل خانہ کے تحفظات کے باوجود جوڈیشل کمیشن قائم، سارا دن کیا ہوتا رہا؟

میر رضا کیس اپ ڈیٹ، اہل خانہ کے تحفظات کے باوجود جوڈیشل کمیشن قائم، سارا دن کیا ہوتا رہا؟

اہل خانہ نے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر کے جے آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ کیا، بزنس پارٹنر کی ضمانت منظور
میر رضا کیس اپ ڈیٹ، اہل خانہ کے تحفظات کے باوجود جوڈیشل کمیشن قائم، سارا دن کیا ہوتا رہا؟

ویب ڈیسک

|

24 Aug 2026

سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز میر رضا کیس کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کروانے کے فیصلے کے بعد آج سارا دن اہم پیشرفت ہوئی، جس کو ایک رپورٹ کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔

اہل خانہ کی سندھ ہائیکورٹ میں درخواست

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کے کیس میں ان کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ اہلخانہ کو جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کی باضابطہ تفصیلات اور ٹی او آرز تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق کیس میں اصل ضرورت شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھانے کی ہے، اس لیے مختلف اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی جائے۔

وکیل نے کہا کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور تفتیشی خامیوں سے متعلق کئی سوالات کے جوابات ابھی تک نہیں مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کے کیس میں مبینہ طور پر ضائع یا غائب ہونے والے شواہد اور سابقہ تفتیش کے ذمہ دار افسران سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے۔

جبران ناصر کے مطابق اہلخانہ نے 24 سوالات اٹھائے تھے، تاہم ان میں سے کسی ایک کا بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیجز، ایک موٹر سائیکل اور آلٹو گاڑی سمیت بعض اہم پہلوؤں پر بھی ابہام موجود ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض فوٹیجز اب تک اہلخانہ کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں، جبکہ شو روم کے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ان معاملات کی مکمل چھان بین کے لیے کیس کو جے آئی ٹی کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔

جبران ناصر نے مزید بتایا کہ کیس کے تفتیشی افسر مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے، تاہم تاحال کسی شخص کو نامزد نہیں کیا گیا اور نہ ہی ضمنی چالان سے متعلق کوئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

بزنس پارنٹر کی ضمانت

دوسری جانب مقامی عدالت نے میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد کی ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے شہر چھوڑنے پر پابندی جبکہ پولیس تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے بزنس پارٹنر احمد کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنے اور تھانے جاکر تفتیش جوائن کرنے کی ہدایت کی، ساتھ ہی  آئندہ سماعت تک شہر سے باہر نہ جانے کا بھی حکم دیا۔

درخواست گزار کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے کہا کہ بزنس پارٹنر ایک آسان ہدف ہوتا ہے کہ اسے پھنسایا جائے، پولیس کی جانب سے مسلسل تھانے بلاکر ہراساں کیا جارہا تھا۔ میر رضا کی فیملی کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس نے میر رضا کے پارٹنر کو تفتیش کےلئے بلایا تھا گرفتار کرنے کےلئے نہیں، پولیس احمد کا بیان لینا چاہتی تھی، احمد میر رضا کے ساتھ ہوتا تھا اسے شامل تفتیش کرنا اہم ہے۔

کراچی میں محمد احمد کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران مدعی کے وکیل جبران ناصر نے ضمانت کی مخالفت کردی۔

جبران ناصر کا مؤقف تھا کہ موجودہ کیس میں محمد احمد کی ضمانت کا جواز نہیں بنتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا تو متعلقہ شخص کو قانون کے تحت پولیس کے خلاف سیکشن 22 اے کے تحت رجوع کرنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب محمد احمد کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں پولیس کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے، اس لیے پولیس کی تفتیش پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ وکیل کے مطابق محمد احمد کو متعدد مرتبہ تھانے طلب کیا گیا اور وہ پیش بھی ہوتے رہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے محمد احمد سے پوچھا کہ کیا وہ پولیس کے بلانے پر تھانے گئے تھے؟ محمد احمد نے بتایا کہ 25 روز کے دوران صرف چار مرتبہ وہ تھانے نہیں گئے۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے کیس کی پیش رفت کے بارے میں استفسار کیا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور محمد احمد کو کیس میں ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔ عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا کسی رپورٹ یا چالان میں محمد احمد کا نام شامل ہے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ کسی رپورٹ میں ان کا نام موجود نہیں جبکہ چالان بھی تاحال تیار نہیں ہوا۔ بعد ازاں عدالت نے محمد احمد کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کردی۔

جوڈیشل کمیشن قائم

اُدھر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میررضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنادیا، جس کی رپورٹ آنے پر کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی چاہیے وہ کسی بھی عہدے پر ہوں۔

میئر نے کہا کہ پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے سرجن اسامہ کو پولیس نے بلایا ہے اور ان کا 161 کا بیان ریکارڈ ہوا ہے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا بیان بھی لیا ہے، پولیس ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو بھی دیکھ رہی ہے، جوڈیشل کمیشن جب اپنی فائنڈنگ دے گا تو معاملہ سامنے آجائے گا، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ یا پولیس، جس نے بھی حقائق چھپائے ہوئی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

 

 

 

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!