1 hour ago
لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کیس میں بڑی پیشرفت، ڈی این اے رپورٹ موصول
ویب ڈیسک
|
4 Jul 2026
لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد اور اجتماعی جنسی زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایک متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ موصول ہو گئی ہے، جس میں مبینہ جنسی زیادتی کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ کیس میں مزید ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران اسپین سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ خاتون نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات دوسری متاثرہ خاتون کے بیان سے مماثلت رکھتے ہیں۔
خاتون کے مطابق وہ ایک رہائش گاہ میں موجود تھیں کہ پہلی ہی رات مسلح افراد وہاں داخل ہوئے، انہیں باندھ دیا گیا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ملزم نے انہیں مکے مارے، جسمانی تشدد کیا اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔
بیان کے مطابق ایک شخص نے ان سے کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں سوالات کیے، جس پر انہوں نے بتایا کہ مطلوبہ سامان ایک بیگ میں موجود ہے۔ بعد ازاں دوسری غیر ملکی خاتون کو بھی وہاں لایا گیا اور دونوں سے مسلسل کمپیوٹر، پاس ورڈز اور مالی معاملات سے متعلق پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔
متاثرہ خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ انہیں اسلحے کے بٹ سے بھی مارا گیا اور انگریزی بولنے والے ایک شخص نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں انہیں ایک دوسرے کمرے میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کی مرضی کے خلاف جنسی زیادتی کی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گرفتار ملزمان میں سے تین افراد پر خاتون سے زیادتی کا الزام ہے۔ مزید یہ کہ دورانِ واردات متاثرہ خواتین کے ڈیجیٹل والیٹ سے تقریباً 19 ہزار امریکی ڈالر منتقل کرائے گئے، جبکہ فریقین کے درمیان کرپٹو کرنسی میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق تنازع بھی زیرِ تفتیش ہے۔
تحقیقات کے سلسلے میں متاثرہ خواتین اور ملزمان کے ڈی این اے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں، جبکہ ملزمان کے موبائل فون بھی فرانزک معائنے کے لیے جمع کرا دیے گئے ہیں۔
ادھر لاہور پولیس نے مقدمے میں نامزد ایک اور ملزم احمد رضا ولد مظہر حیات کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پر بھی دیگر ملزمان کے ساتھ واردات میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کی تحویل میں موجود دیگر ملزمان میں محمد رضا ڈار، سکندر عزیز خان، الحکیم بھٹی، حسن رضا اور ساجد علی شامل ہیں، جو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل شفافیت اور میرٹ پر کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیرِ حراست ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک کیا جا رہا ہے اور کسی کو بھی خصوصی رعایت نہیں دی جا رہی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر مشتبہ افراد سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب ملزمان کا تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کے ڈی این اے سیمپل حاصل کرکے نمونے ٹیسٹ کیلیے فرانزک لیبارٹری بھیج دیے۔
خواتین نے پولیس افسران یقین دہانی کرائی کہ دونوں خواتین ایمبسی اور آن لائن زوم میٹنگز کے ذریعے عدالتی کارروائی کا حصہ بنیں گی۔
Comments
0 comment