مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

تحقیق میں 15 سے 45 سال عمر کی 7119 خواتین اور ان کے 7579 حمل کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا
مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

Webdesk

|

15 Jun 2026

کراچی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مائیگرین کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا حمل کے ابتدائی مہینوں میں حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

کیلسیٹونِن جین-ریلیٹڈ پیٹائیڈ(سی جی آر پی)مونو کلونل اینٹی باڈیز کہلائی جانے والی یہ یہ ادویات انجیکشن کی صورت میں دی جاتی ہیں اور مائیگرین کے تقریبا 50 فی صد مریضوں میں اٹیک کی روک تھام میں موثر ثابت ہوئی ہیں۔

اسی وجہ سے انہیں بعض ماہرین ونڈر ڈرگ بھی قرار دیتے ہیں۔تاہم، حال ہی میں امیریکن ہیڈ ایک سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر یہ ادویات حمل کے ابتدائی مرحلے میں استعمال کی جائیں تو حمل ضائع ہونے کا خطرہ 45 فی صد تک بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق میں 15 سے 45 سال عمر کی 7119 خواتین اور ان کے 7579 حمل کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ تمام خواتین کو حمل سے پہلے مائیگرین کی تشخیص ہو چکی تھی۔

محققین نے خواتین کو تین گروپوں میں تقسیم کیا۔ وہ خواتین جو سی جی آر پی مونوکلونل اینٹی باڈی انجیکشن استعمال کر رہی تھیں، وہ جو پروپرینولول استعمال کر رہی تھیں اور اور وہ جو کوئی دوا استعمال نہیں کر رہی تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ حمل کے 8 سے 12 ہفتوں کے دوران سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح دیگر گروپوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف پروپرینولول استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح تقریبا 2 فی صد تھی جبکہ سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں یہ شرح 5 فی صد تک پہنچ گئی۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!