مکہ معاہدے کا مطلب ہے امریکا خطہ چھوڑنا چاہتا ہے: ایران

مکہ معاہدے کا مطلب ہے امریکا خطہ چھوڑنا چاہتا ہے: ایران

محسن رضائی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
مکہ معاہدے کا مطلب ہے امریکا خطہ چھوڑنا چاہتا ہے: ایران

Webdesk

|

23 Aug 2026

تہران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ان ممالک کو آگاہ کرچکا ہے کہ وہ خطہ چھوڑنا چاہتا ہے۔

ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

 انہوں نے تمام پڑوسی ممالک سے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ ایران کے خلاف معاشی جنگ میں شریک نہ ہوں، ورنہ انہیں دشمن سمجھا جائے گا۔ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران جنگ بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم پڑوسی ممالک نے امریکا کی معاشی جنگ میں تعاون کیا تو ایران ان کے مفادات پر ضرب لگائے گا۔

محسن رضائی نے کہا کہ امریکی سمجھتے تھے کہ وہ چند روز میں جنگ ختم کرکے تیل اور گیس پر قبضہ کرلیں گے، تاہم جنگ میں 1200 آئل ٹینکرز استعمال کے قابل نہیں رہے اور عالمی فلیٹ کا 15 فیصد ناکارہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے مذاکرات، سفارتکاری اور خود اپنے دستخطوں کو دھوکا دیا۔ ان کے مطابق امریکی اقدامات سے دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش بڑھنے کا خدشہ ہے اور مزید ممالک ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!