حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آر

حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آر

خطے میں مسلسل محاذ آرائی کسی بھی متعلقہ ملک کے مفاد میں نہیں
حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آر

Webdesk

|

19 Oct 2026

راولپنڈی: پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے مشرق وسطی میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا مقدس اسلامی مقامات کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی انتظام کے تحت اجتماعی ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس انتظام کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت کرنا نہیں بلکہ ممکنہ حملوں کی روک تھام، مشترکہ سلامتی کا تحفظ اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔

اٹھارہ اکتوبر کو عرب میڈیا ادارے انڈیپنڈنٹ عربیہ پر شائع ہونے والے انٹرویو میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کئی ماہ سے ایران اور خطے کے دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان رابطوں کا بنیادی مقصد تحمل کی حوصلہ افزائی، اختلافات میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے تاکہ جاری کشیدگی مزید نہ پھیلے۔

انہوں نے مشرق وسطی میں بار بار کشیدگی بڑھنے اور پھر کم ہونے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے سرے سے فوجی کارروائیوں کا آغاز خطے میں دیرپا استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس کے علاقائی شراکت دار تنازع کو مزید ممالک تک پھیلنے اور فوجی محاذ آرائی میں شدت آنے سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔

سعودی عرب پر حملوں کے بعد کیا پاکستان نے تہران کو براہ راست کوئی انتباہ دیا تھا؟ اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایسی کسی مخصوص بات چیت کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید۔تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی رابطوں کا محور کشیدگی میں کمی اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ہیں۔

ان کے مطابق خطے میں مسلسل محاذ آرائی کسی بھی متعلقہ ملک کے مفاد میں نہیں، اس لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں واقع مقدس مساجد کا تحفظ پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اپنی موجودہ دفاعی ذمہ داریوں کے تحت سعودی عرب کو ضروری تعاون فراہم کر رہا ہے اور یہ تعاون جاری رہے گا۔انہوں نے فوجی رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی تعاون کی عملی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

تاہم کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کے یہ بیانات سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جن کے باعث خطے کی سلامتی اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!