عمران خان کی ذاتی ڈاکٹر سے علاج کروانے کی درخواست مسترد

عمران خان کی ذاتی ڈاکٹر سے علاج کروانے کی درخواست مسترد

یہ درخواست عمران خان کی قانونی ٹیم نے عدالت میں دائر کی تھی
عمران خان کی ذاتی ڈاکٹر سے علاج کروانے کی درخواست مسترد

ویب ڈیسک

|

7 Feb 2026

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے ذاتی معالج سے علاج کرانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ ہر قیدی کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو قید کے دوران ان کے ذاتی ڈاکٹر سے علاج کی اجازت دی گئی تھی، اسی بنیاد پر عمران خان بھی اپنے معالج سے علاج کرانا چاہتے ہیں۔

فیصل ملک نے عدالت کو بتایا کہ اگر ان کے موکل کی صحت کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب سرکاری وکیل ظہیر شاہ نے درخواست کی سخت مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور ایسے شخص کو جیل کے اندر رہتے ہوئے علاج کے لیے عدالت سے خصوصی اجازت دینا قانونی طور پر ممکن نہیں۔

پراسیکیوٹر کے مطابق عمران خان کو اس مقدمے میں فروری 2024 میں ضمانت مل چکی ہے، جبکہ نواز شریف کو ذاتی معالج سے علاج کی اجازت ایک آئینی عدالت، یعنی لاہور ہائی کورٹ نے دی تھی، نہ کہ ٹرائل کورٹ نے۔

ظہیر شاہ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ جیلوں میں تعینات طبی عملہ صوبائی محکمہ صحت کے تحت کام کرتا ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں وہ جواب دہ ہوتا ہے، جبکہ نجی ڈاکٹر سے علاج کی صورت میں ذمہ داری کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں عمران خان کی ذاتی معالج سے علاج کرانے کی درخواست مسترد کر دی۔

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!