2 hours ago
عمران خان کا پاکستان میں اثرو رسوخ، ایپسٹین کی نئی ای میلز میں انکشاف
ویب ڈیسک
|
1 Feb 2026
ایپسٹین کیس سے جڑی حال ہی میں ڈی کلاسیفائی کی گئی ای میلز میں انکشاف ہوا ہے کہ مغربی حلقوں سے وابستہ بعض شخصیات نے پاکستان میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
یہ ای میل 2013 کی ہے، جو عمران خان کے وزیرِ اعظم بننے سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی۔
ایک انگریزی اخبار کے مطابق جون 2013 میں یہ ای میل سابق اقوام متحدہ اہلکار نصرہ حسن نے ناروے کے سفارتکار ٹیرجے روڈ لارسن کو بھیجی، جو اس وقت انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے صدر تھے۔
ای میل میں نصرہ حسن نے عمران خان کو ’’لندن سوسائٹی کا نمایاں چہرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ مغرب کی حمایت سے چلنے والے صحتِ عامہ کے پروگرام، خاص طور پر پولیو کے خلاف مہم، پاکستان میں عمران خان کے روابط کے ذریعے زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔
یہ ای میل امریکا کے محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ان دستاویزات کا حصہ ہے جو جیفری ایپسٹین کے مالی اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران منظرِ عام پر لائی گئیں۔
اس وقت عمران خان ایک اپوزیشن رہنما اور سابق عالمی شہرت یافتہ کرکٹر تھے۔ ای میل کے مطابق مغربی حلقوں میں وہ سرکاری عہدے کے بجائے اپنی سماجی حیثیت اور تعلقات کی وجہ سے زیادہ پہچانے جاتے تھے۔ نصرہ حسن کا خیال تھا کہ حساس معاملات، خصوصاً پولیو کے مسئلے پر، عمران خان کے ذریعے بات چیت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے، بنسبت اس وقت کے نئے وزیرِ اعظم نواز شریف کے۔
یہ مراسلہ اس دور میں لکھا گیا جب تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت بنا چکی تھی، جہاں پولیو ایک بڑا مسئلہ تھا اور ویکسینیشن مہم کو عوامی مزاحمت کا سامنا تھا۔
ای میل میں ہونے والی بات چیت میں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس، جنہیں ’’BG‘‘ کے نام سے لکھا گیا، اور افغانستان کے اس وقت کے صدر حامد کرزئی کا بھی ذکر موجود ہے۔
Comments
0 comment