4 hours ago
امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقہ کی خاتون وکیل کے نام ہوگیا
Webdesk
|
9 Oct 2026
سویڈن: سویڈن کی رائل سوئیڈش اکیڈمی نے امن کے نوبیل انعام 2026 کا اعلان کر دیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش اس بار بھی پوری نہیں ہوسکی۔اس سال کا نوبیل امن انعام جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ہیومین رائٹس وکیل ناوانیتھم ناوی پلے کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوانیتھم ناوی پلے کو امن اور عالمی قانون کے فروغ پر نوبیل انعام دیا جا رہا ہے. 1941 میں جنوبی افریقی شہر ڈربن میں پیدا ہونے والی ناوانیتھم ناوی پلے بھارتی نژاد خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
وہ جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کا سامنا کرتے ہوئے بڑی ہوئیں اور جنوبی افریقا کی ان اولین بھارتی نژاد خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی. وہ نسل پرستی کے خلاف سرگرم افراد کا عدالتوں میں دفاع کرتی رہیں اور جیلوں کی ناقص حالات کے خلاف لڑتی رہیں۔
جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد وہ روانڈا میں انٹرنیشنل کرمنل ٹربیونل کی جج بن گئیں، جہاں انہوں نے جنسی زیادہ کو جنگی جرائم کا حصہ بنانے کا تاریخ ساز کام کیا۔
بعد ازاں 2008 سے 2014 کے دوران وہ اقوام متحدہ کے ہیومین رائٹس ادارے کی ہائی کمشنر کے طور پر کام کرتی رہیں جبکہ حال ہی میں انہیں غزہ اور اسرائیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے قائم کیے گئے اقوام متحدہ کے کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
واضح رہے امن کا نوبیل انعام (نوبیل پیس پرائز) اس شخص کو دیا جاتا ہے. جس نے ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، مستقل فوجیں ختم یا کم کرنے اور امن کے قیام و فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو۔
نوبیل انعام سوئیڈن کی کاروباری شخصیت الفریڈ نوبیل کی یاد میں دیا جاتا ہے جنہوں نے ڈائنامائٹ (بارود) ایجاد کیا۔انہوں نے اپنے تقریبا تمام اثاثے یہ انعامات دینے کے لیے ایک فنڈ میں جمع کرا دیے تھے اور سال 1901 میں پہلی مرتبہ نوبیل انعامات تقسیم کیے گئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ 2 برسوں سے نوبیل انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی انہیں یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا. مختلف ممالک کے ساتھ پاکسان کی جانب سے بھی صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔
Comments
0 comment