وفاقی حکومت کا گیس ٹیرف سے متعلق بڑا فیصلہ
Webdesk
|
29 Sep 2026
اسلام آباد: وزارت پیٹرولیم نے ملک میں گیس کے یکساں ٹیرف کے نفاذ پر کام شروع کردیا ہے اور یکم جولائی 2027 سے سنگل گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
نئی پالیسی کے تحت گیس کے موجودہ 12 سلیب پر مشتمل نظام ختم کرکے تمام صارفین کے لیے اوسط گیس ٹیرف مقرر کیا جاسکتا ہے، جبکہ گیس پر سبسڈی کو کھپت کے بجائے صارف کی آمدنی سے منسلک کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق گیس ٹیرف پالیسی کی منظوری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے لی جائے گی۔ یکساں ٹیرف نافذ ہونے کی صورت میں گیس سیکٹر کا موجودہ سلیب سسٹم ختم ہوجائے گا اور تمام صارفین کے لیے اوسط نرخ مقرر کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام صارفین کے لیے گیس کا اوسط ٹیرف 1708 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ نئی پالیسی کے تحت کم آمدن والے مستحق افراد کو آمدنی کی بنیاد پر سبسڈی دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ گیس سبسڈی کا موجودہ نظام ختم کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق گیس پر ریلیف دینے کے لیے صارف کی کھپت کے بجائے گھریلو آمدنی کو معیار بنانے کی تجویز ہے۔ کم آمدن والے صارفین کی مالی معاونت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔موجودہ نظام کے تحت کم گیس استعمال کرنے والے صارفین انتہائی کم نرخوں پر گیس حاصل کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین کو فی ایم ایم بی ٹی یو تقریبا 200 سے 350 روپے تک کے نرخ پر گیس فراہم کی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کراس سبسڈی ختم کرنے کے لیے آئندہ بجٹ میں 162 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف سے گیس کے شعبے میں کراس سبسڈی ختم کرنے کا وعدہ کرچکا ہے۔نئی گیس ٹیرف پالیسی کے نتیجے میں گھریلو صارفین کے نرخوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، جبکہ صنعتی اور تجارتی شعبے کے لیے گیس کے نرخوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔
Comments
0 comment