4 hours ago
ٹرمپ نے نضال حسن کی پھانسی براہِ راست دکھانے کا فیصلہ واپس لے لیا
Webdesk
|
16 Oct 2026
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی براہِ راست دکھانے کا فیصلہ واپس لے لیا تاہم ان کی پھانسی مقررہ شیڈول کے مطابق ہوگی۔
امریکی محکمہ دفاع نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ نضال حسن کو 3 دسمبر 2026 کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور اس کارروائی کو براہِ راست نشر کیا جائے گا۔نضال حسن امریکی فوج کا سابق ماہرِ نفسیات ہے جس نے 5 نومبر 2009 کو ریاست ٹیکساس میں واقع فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 غیر مسلح فوجی اہلکاروں کو ہلاک اور 32 افراد کو زخمی کردیا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ بہت سے اچھے اور نیک نیت لوگ نضال حسن کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کریں گے اس لیے پھانسی براہِ راست نشر نہیں کی جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ نضال حسن کو شیڈول کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔ ان کے مطابق مقتولین کے اہلِ خانہ چاہیں تو پھانسی کے موقع پر ذاتی طور پر موجود رہ کر کارروائی دیکھ سکتے ہیں۔
پھانسی کو براہ راست دکھانے کے اعلان کے بعد امریکا اور دنیا بھر میں شدید تنقید سامنے آئی تھی ۔ اقوام متحدہ نے اس منصوبے کو قابلِ نفرت قرار دیا تھا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ابتدا میں اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ایسے اقدامات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو بھی براہِ راست نشریات کے منصوبے کی حمایت کی تھی، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ محکمہ دفاع اس معاملے پر حتمی فیصلہ کررہا ہے۔
بعد ازاں انہوں نے منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔نضال حسن کے وکیل جان گیلیگن نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات منسوخ کرنے کا فیصلہ ان کے لیے حیران کن نہیں۔
ان کے مطابق کسی بھی پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کا ابتدائی فیصلہ غلط تھا اور اس سے فوج کے اپنے ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی۔وکیل نے کہا کہ نقصان پہلے ہی ہوچکا ہے اور فوج اب اس معاملے کو درست کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
ان کے بقول یہ معاملہ امریکی فوجی نظامِ انصاف پر مستقل دھبے کے طور پر باقی رہے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ نضال حسن کو براہِ راست نشریات منسوخ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں۔
Comments
0 comment